ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 72 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 72

۷۲ تمام شرائط کو ملحوظ رکھ کر نکاح کرنا۔یہ نکاح کے شرعی معنے ہیں۔(۲) مرد اور عورت کا ایک دوسرے کے ساتھ ہمبستر ہونا خواہ جائز رنگ میں ہو یا ناجائزہ رنگ میں۔یہ نکاح کے لغوی معنی ہیں۔پس جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے قول لا تُنْكِحُوا مَا تَكَعَ آبَاؤُكُمْ میں معنی لغوی لئے ہیں اس کے نزدیک زناء سے بھی حرمت لازم آجاتی ہے لیکن جس نے شرعی معنی لئے ہیں اس کے نزدیک زناء سے حرمت نہیں آتی۔دوئم بعض کے نزدیک زائی اور زانیہ کی بیٹی زانیہ اور زانی کے بیٹے کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ باپ بیٹی اور ماں بیٹے کی حرمت کی وجہ یہ رکھی گئی ہے کہ اولاد اپنے ماں باپ کی جزو ہوتی ہے۔کیونکہ خاوند کے خون کے اجزاء بیوی کے خون کے اجزار میں شامل ہو جاتے ہیں اور اس طرح ماں کی وساطت سے اولاد کے خون کے اجزاء میں والدین کے خون کے اجزا ز مشترک ہو جاتے ہیں۔پس یہاں یہاں براہ راست جزو مشترک پائی جائے گی۔نکاح کی حرمت پائی جائیگی۔سوائے میاں بیوی کے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں اس لئے ان پر یہ اصول چسپاں نہیں ہوتا۔پس جو لوگ اس فلسفہ کے ماتحت حرمت کے قائل ہیں وہ زنار کی وجہ سے بھی ان رشتوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔کیونکہ یہ وجہ اس جگہ بھی پائی جاتی ہے۔جو لوگ اس حرمت کی وجہ نسبی تعلق قرار دیتے ہیں وہ زنار کی وجہ سے اس حرمت کے قائل نہیں ہیں۔کیونکہ زنا کی بناء پر نسب قائم نہیں ہوتی کیونکہ نسبی تعلق ایک اعزاز ہے لیکن زناء کے نتیجہ میں اہانت و ذلت کے اسباب تو پیدا ہو سکتے ہیں اعزاز و تکریم کے نہیں۔این مندر کے بیان کے مطابق ملکیت کی صورت میں مجامعت کے بعد بھی حرمت کے وہی احکام صادر ہوتے ہیں جو نکاح کے بعد مجامعت کی صورت میں پیدا ہوئے ہیں اور اسی قول پر فقہاء کا اتفاق ہے۔ملکیت کی صورت میں مجامعت کے بعد شرعی احکام میں وہی اختلاف ہے جو