ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 61
41 نہ ہونے سے بیع فاسد ہو جاتی ہے اسی طرح ہر کے معین نہ ہونے سے نکاح بھی فاسد ہونا چاہیئے۔جس نے اس کو بیج کے قائمقام قرار نہیں دیا اس کے نزدیک یہ نکاح صحیح ہو گا۔مجھے:۔اگر کوئی شخص نکاح کے وقت یہ کہے کہ اگر اس سے پہلے میری کوئی اور بیوی ثابت نہ ہو تو حق مہر ایک ہزار روپیہ ہوگا۔اور اگر کوئی اور بیوی ثابت ہو جائے تو حق پر دو ہزار روپیہ ہو گا۔تو اس بارہ میں جمہور کا مذہب یہ ہے کہ یہ نکاح صحیح ہوگا اور ایک فریق کے نزدیک یہ شرط بھی صحیح ہوگی۔اور اس شرط کے مطابق اسے حق مہر ادا کرتا ہوگا۔ایک گروہ کے نزدیک اس میں مہر مثل لازم آئے گا۔یہ امام شافعی اور ابو توزر کا قول ہے لیکن ابو ثور یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر وہ تعلقات زوجیت سے قبل اسے طلاق دے گا تو اس پر صرف مالی امداد و اجب ہوگی۔دیعنی اسکی دلداری کے لئے کچھ رقم ادا کر دے گا) امام ابو حنیفہ کے نزدیک اگر اسکی کوئی اور بیوی ثابت نہ ہو تو حق مہر ایک ہزار روپیہ ادا کرے گا۔اور اگر کوئی اور بیوی ثابت ہو تو مہر مثل ادا کرے گا۔بشرطیکہ دو ہزار سے زیادہ اور ایک ہزار سے کم نہ ہو۔ایک مذہب یہ بھی ہے کہ یہ نکاح صحیح نہیں ہے کیونکہ اس میں دھوکے کا احتمال ہے۔مندرجہ بالا پانچ مسائل میں جس جس جگہ جہرشل کا ذکر آیا ہے۔اس میں سوال یہ ہے کہ اس مہر مثل کا اندازہ اس عورت کے حسن کی بنا پر کیا جائے گا۔یا حسب نسب کی بنا پر یا مال کی بنا پر یا کسی اور لحاظ سے۔امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ جمال حسب نسب اور مال تینوں چیزوں کا لحاظ کیا جائے گا۔امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اس عورت کے خاندان کی خونی رشتہ دار عورتوں کے حق مہر کے مطابق رکھا جائے گا۔امام ابوحنیفہ " کا مذہب یہ ہے کہ اس صورت کے خاندان کی عورتوں کے مہر کا لحاظ کیا ہے گا