ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 281
۲۸۱ اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے پھر تین طلاقیں دیدے تو کیا ان میاں بیوی کے درمیان ریحان ہو گا یا نہیں ؟ امام مالک - شافعی اور اوزاعی کے نزدیک ان کے درمیان ریحان ہو گا۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک ان دونوں کے درمیان یحان نہ ہو گا سوائے اس کے کہ وہ بچہ سے اپنے نسب کی نفی کرے۔اور اُسے حد بھی نہ لگائی جائیگی۔اپنے نسب سے بچے کی نفی کے متعلق اگر اس کا یہ دعوئی ہو کہ اُس نے رحم کے صاف ہونے ہانے بعد اپنی بیوی سے مجامعت نہیں کی اس لئے یہ عمل اس کا نہیں ہے۔اس کے متعلق سب کا اتفاق ہے کہ ان دونوں کو لعان کرنا ہو گا۔البتہ رحیم کے پاک ہونے کے متعلق امام مالک نے اختلاف کیا ہے۔ان کا ایک قول تو یہ ہے کہ وہ تین حیض تک اس کے قریب نہ جائے۔اور ایک روایت یہ ہے کہ صرف ایک حیض تک اسکے قریب نہ جائے اگر مطلقاً بچے کی نفی کرے۔یعنی اس نفی کی کوئی ظاہری وجہ نہ بتائے۔صرف یہ کہے کہ یہ بچہ اس کا نہیں ہے۔تو اس کے متعلق امام مالک کا قول یہ ہے کہ ان مال کے درمیان ریحان نہ ہو گا۔امام شافعی کے اصحاب میں سے عبدالوہاب کا قول یہ ہے کہ مطلق حمل سے نفی کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے۔مثلاً یہ کہے کہ یہ بچہ اس کا نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنی بیوی کو زنا کرتے دیکھا ہے۔بچے کی نفی کرنے کے وقت میں اختلاف ہے۔جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ وہ اس وقت نفی کرے جبکہ اس کی بیوی حاملہ ہو۔امام مالک نے کہا ہے کہ اگر وہ حاملہ ہونے کے وقت بچے کی نفی نہ کرے۔تو ے تھی نہ بعد میں بحان کے ذریعہ اس کی نفی نہیں کر سکتا - امام شافعی کے نزدیک جب خاوند کو حمل کا علم ہو اور حاکم نے اس کو بتان کا موقعہ دیا ہو لیکن اس نے اس وقت بیان نہ کیا ہو تو بچہ پیدا ہونے کے بعد