ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 279
۲۷۹ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرُ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِ أمْسَلْتُهَا فَطَلَّقَهَا فَلَا تَا قَبْلَ أَنْ يَا مُرَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلمه یحان کی صحبت کی عقلی دلیل یہ ہے کہ جب کسی شخص کو یقین ہو جائے کہ اس کے بستر میں کسی دوسرے شخص کا بھی دخل ہے۔تو اس کے اپنے سب سے نفی کرنے کا کوئی نہ کوئی طریق ضرور ہونا چاہئے اور وہ طریق لعان ہی ہے۔پس لعان کا حکم قرآن حدیث۔قیاس اور اجماع سے ثابت ہے اور اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔وجوب لعان کے اسباب وہ اسباب جن سے لعان واجب ہوتا ہے دو ہیں را، زناء کا دعوی (۲) حمل سے نھی کا دعوئی۔زنار کے چھوٹی کی دو صورتیں ہیں۔یا تو خاوند کا یہ دعوی ہو کہ اس نے خود اپنی بیوی کو نہر نا کرتے دیکھا ہے یا اس کا دعوی مطلق ہو یعنی یہ کہے کہ اس کی بیوی را نیہ ہے۔به ترجمه : سہل بن سعد سے روایت ہے کہ عویمر عجلانی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نے اگر آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو نا جائز حالت میں دیکھے اور وہ اسے قتل کرنے پھر تو آپ بھی اسے قصاص میں قتل کر دینگے۔اگر وہ اسے قتل نہ کرے تو پھر اسے ایسے موقعہ پر کیا کرنا چاہیئے۔اس کے جواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ الہ تعالیٰ نے تمہانے سے اور تمہاری ہو ہی گیارہ میں حکم نازل فرمایا ہے۔جائیں اور اپنی بیوی کو ہمراہ نے کر آئیں۔حضرت سہل فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے باہم لعان کیا۔اس وقت میں بھی دیگر لوگوں کے ہمراہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔جب ان دونوں نے لوان کر لیا تو عویمر نے کہا کہ لعان کے بعد اگر میں اس کو اپنے پاس رکھونگا تو جھوٹ بولنے والا ہوں گا۔چنا نچہ قبیل اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جدائی کا حکم دیتے عویمر نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں۔اس روایت کو ترمذی کے سواء باقی صحاح نے نقل کیا ہے۔)