ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 188
آئے گا۔اس وقت تمہیں طلاق ایسے اقوال کے متعلق امام مالک کی دور و انتیں ہیں۔(1) طلاق اسی وقت واقع ہو جائیگی (۲) شرط کے وجود کے بعد طلاق واقع ہو گی۔این رشد کے نزدیک اس بارہ میں امام مالک کا پہلا قول ضعیف ہے۔کیونکہ اس قول کے مطابق اس نے اس فعل کو اُن افعال کے مشابہ قرار دیا ہے جو لازماً وقوع پذیر ہوتے ہیں۔اگر خاوند طلاق کو مجہول الوجود شرط کے ساتھ معلق کرے اور وہ مجہول الوجود شرط ایسی ہو کہ اس کے معرض وجود میں آنے کا علم کسی صورت میں بھی مکن نہ ہو تو اس قسم کے اقوال میں اسی وقت طلاق واقع ہو جاتی ہے۔کیونکہ اس شرط کے وقوع یا عدم وقوع کا علم نہیں ہو سکتا اس لئے اس طلاق کو شرط کے وجود کے ساتھ معلق رکھنا بے فائدہ ہے گویا اس صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ کوئی شرط ہے ہی نہیں۔مثلا وہ یہ کہے کہ اگر آج اللہ تعالیٰ بحیرہ قلزم میں اس صفت کی ایک مچھلی پیدا کر دے تو تمہیں طلاق۔اگر وہ اس کی طلاق کو ایسی مجہول الوجود شرط کے ساتھ متعلق کرے جس کے وقوع کا علم ممکن ہے۔تو اس صورت میں طلاق شرط کے وجود کے بعد واقع ہوگی۔مثلا یہ کہے کہ اگر تمہارے ہاں لڑکی پیدا ہوئی تو تمہیں طلاق۔تو اس صورت میں جب اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوگی تو ا سے طلاق ہوگی۔اگر لڑکی پیدا نہ ہوگی امام مالک کے نزدیک اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر میں فلاں کام کروں تو میری بیوی کو طلاق تو اسے اس وقت تک طلاق نہ ہوگی جب تک وہ اس کام کو نہ کریگا لیکن اگر وہ یہ کہے کہ جب تک میں فلاں کام نہ کروں میری بیوی کو طلاق - اس صورت میں گروہ اس کام کو ایلیاء کی مدت سے زیادہ عرصہ تک نہ کرے تو اس پر املاء کا منہ لگے گا۔اے چونکہ ایلاء کا حکم بعض کے نزدیک یہ ہے کہ چار ماہ گزرنے کے بعد ایک طلاق رجعی واقعہ ہوگی اس لئے اس مسئلہ میں بھی اگر دو چار ماہ تک اس کام کو نہ کر گیا تو اس کی بیوی کو ایک رجعی طلاق واقعہ ہو جائے گی۔