ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 130
کا استدلال اس آیت سے ہے۔فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ دَأْتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً حضرت ابن عباس سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ فرماتے ہیں :- نکاح متحد اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہے۔جو اس نے امت محمدیہ پر نازل کی ہے۔اللہ تعالی نے اضطراری حالت میں فردا میخوں اور خنزیر کے گوشت جائز قرار دیا ہے ہاں کی حیثیت بھی سردار خون اور مشیری حضرت ابن عباس کا جواب درج کرنے کے بعد علامہ خطابی لکھتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس اس مسئلہ میں قیاس سے کام لیتے تھے اور اس کو بھو سکے کی اضطراری حالت پر قیاس کرتے تھے لیکن ان کا قیاس درست نہیں ہے۔کیونکہ بھو کے آدمی کا اضطرار تو اس کو موت سے بچانے کے لئے درست ہے کیونکہ جب اس کے سوار اس کے لئے کوئی اور چارہ نہ رہ ہے تو استثنائی طور پر اللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی بچانے کے لئے اس امر کی اجازت دیدی کہ وہ ایسے موقعہ پیران حرام اشیاء ہیں سے جو بھی میسر ہوں اتنی قلیل ترین مقدار میں جس سے وہ موت سے بچ سکے۔استعمال کر سکتا ہے۔لیکن شہوت کے غلبہ کا دفاع تو دوسرے ذرائع سے بھی ہو سکتا ہے۔مثلاً کرو زو رکھنے سے اور اصلاح کی دعا کرنے سے۔لہذا اس مسئلہ کو بھو کے آدمی پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔کوالا متقی جلد ۵۳) جیسا کہ لینے بیان کیا ہے اس کی اصل وجہ تو یہی ہے کہ حرمت متعہ کی احادیث حضرت ابن عباس پر مخفی رہیں۔چنانچہ نووی شرح مسلم نے اس امر کی تائید کی ہے کہ آپ کو یہ روایات نہیں پہنچیں۔اس لئے آپ اس کی حرمت کے قائل تھے۔(نودی شرح مسلم جلد ا ط ۳۵) یہ امر کوئی بعید بھی نہیں ہے کہ کسی جلیل القدر صحابی کو کسی مشہور مسئلہ کے متعلق روایت نہ پہنچی ہو اس کی متعدد مثالیں تاریخ سے ثابت ہیں کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو بعض عام اور مشہور مسائل کا علم نہ تھا۔مثلاً حضرت ابو بکر پر حديث أمرت أن أقاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُو الا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مخفی رہی (نودی شرح مسلم باب الامر لقتال الناس حتى يقولوا لا إلهَ إِلَّا اللهُ ) اسی طرح آپ پر جدہ کے ترکہ کی حدیث مخفی تھی جو آپ کو مغیرہ بن شعیہ اور محمد بن مسلمہ نے بتائی۔کہ رسول اللہ نے جدہ کو ہلے ترکہ دیا تھا۔اعلام الموقعين باب ذكر ما شفى على الصحابة ) حضرت عمرہ کو ان مشہور مسئلہ کا علم نہ تھا کہ عورت کا حق مہر اپنی طاقت کے مطابق زیادہ بھی مقرر کیا جا سکتا ہے پہلے ان کا خیال یہ تھا کہ امہات المومنین یا بنات النبی سے زیادہ حق مہر نہیں رکھنا چاہیئے لیکن جب آپ کو ایک عورت وأقيم احد مهن قنطارا کی آیت پڑھ کر سنائی تو آپنے اپنے خیال سے رجوع فرمایا۔اور فرمایا حسن احد أَفْقَهُ مِنْ عُمَرَ حَتى النِّسَاء (اعلام الموقعین) پس ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس کو بھی پہلے پہلے اس مسئلہ میں حرمت کی اطلاع نہ تھی لیکن جب ان پر اسکی حرمت واضح ہوئی تو آپنے اپنے پہلے خیال سے رجوع خوالیا ترجمہ :۔اگر تم نے ان سے نفع اٹھایا ہو تو تم انہیں ان کے مہر بمقدار موعود ادا کرو۔(نساء ع۴)