ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 86 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 86

نِسْوَةِ أَمْسِك أَرْبَعًا وَفَارِقُ سَائِرَهُنَّ له فقہار کے ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ تو بیویاں بھی بیک وقت جائز ہیں۔ان لوگوں نے آیت قرآنی میں جواز کے اعداد کو جمع کرکے استدلال کیا ہے یعنی ۲+۳+۴ - ۹ دو بہنوں کو ایک عقد میں جمع کرنا اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ ایک عقد میں دو حقیقی بہنوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَ اَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأَخْتَيْنِ اس بارہ میں اختلاف ہے کہ دو حقیقی بہنوں کو غلامی کے تعلق میں جمع کرنا جائز ہے یا نہیں یعنی دو مملوکہ بہنوں کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے یا نہیں۔جمہور فقہاء اس کو جائز قرار نہیں دیتے۔لیکن ایک طبقہ نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ آیت مذکورہ کے اول حصہ میں عمومی مانعت بیان کی گئی ہے۔لیکن اس کے آخری حصہ میں استثناء ہے یعنی الا ما مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ اختلاف یہ ہے کہ یہ استثناء یا تو آیت کے قریبی حصہ سے ہے یعنی آن تَجْمَعُوا بين الأختين سے با آیت میں بیان کردہ مجموعی امور سے مثلاً چار سے زیادہ شادیاں کرنا وغیرہ۔اس بارہ میں اختلاف ہے کہ اگر ایک بہن نکاح میں ہو اور ایک ملکیت میں تو ان دونوں کو جمع کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ امام مالک اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے۔اور امام شافعی کے ترجمہ :۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیلات کو جب وہ اسلام لا ئے فرمایا اور اس وقت غیلان کے عقد میں دس بیویاں تھیں کہ چار بیویاں اپنے پاس رکھ کر باقی کو طلاق دے دو۔د مستند امام احمد بجواله منتقی حسی در ۲ ۵۳۷ ) ترجمہ :۔اور تم پر حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو اپنے نکاح میں جمع کرو۔(نساء ع ۲۴ ترجمہ :۔سوائے ان عورتوں کے جو تمہاری ملکیت میں آجائیں۔(نساء ع٢)