گلشن احمد

by Other Authors

Page 16 of 84

گلشن احمد — Page 16

30 29 مسلمانوں کا کچھ نقصان ہوا مگر اللہ پاک کی خاص مدد سے با لآخر فتح نصیب ہوئی۔اس کے بعد 9 ہجری میں غزوہ تبوک ہوئی۔بچہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے کا ذکر کیا تھا کیا آ۔نے حج بھی کیا۔ماں۔جی ہاں ! آپ نے اپنی زندگی میں ایک حج کیا۔ایسا ہوا کہ 10 ہجری(8176 مارچ 632ء) کو آپ ایک لاکھ چوبیس ہزار افراد کے ساتھ حج کے لئے تشریف لے گئے۔سب ازواج مطہرات ساتھ تھیں۔اس حج کی کیا شان تھی جہاں تک نگاہ اٹھتی مسلمان ہی مسلمان تھے۔عرفات کے مقام پر اونٹنی پر سوار ہو کر آپ نے یاد گار خطبہ دیا۔آپ نے فرمایا:- ”اے لوگو ! میری باتوں کو غور سے سنو ، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اس سال کے بعد پھر بھی اس موقع پر تم سے مل سکوں گا یا نہیں۔اے لوگو ! یاد رکھو جیسا یہ دن اور مہینہ حرمت والا ہے۔اسی طرح تمہاری جان و مال ایک دوسرے پر حرام ہیں۔دیکھو امانتیں ان کے مالکوں کے سپرد کرنی چاہئیں یہ باتیں جو میں تمہیں کہہ رہا ہوں تم میں سے ہر ایک شخص کا جو یہاں موجود ہے فرض ہے کہ وہ ان لوگوں تک پہنچائے جو یہاں موجود نہیں۔یادرکھو تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھا جائے گا۔آج سود کی رقم ترک کی جاتی ہے اور وہ تمام خون جو جاہلیت میں ہو چکے اُن کا قصاص معاف کیا جاتا ہے۔اے لوگو! آج شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا کہ پھر کبھی اس کی پرستش اس زمین میں کی جائے۔اے لوگو! عورتوں کا تم پر حق ہے جیسا کہ تمہارا عورتوں پر حق ہے وہ تمہارے ہاتھوں میں خدا تعالیٰ کی امانت ہیں پس ان سے نیک سلوک کرو اور دیکھو غلاموں کا بھی خیال رکھو جو خود کھاتے ہو ان کو بھی کھلاؤ جو خود پہنتے ہو ان کو بھی پہناؤ۔اے لوگو! اچھی طرح سُن لو کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہار اباپ بھی ایک تھا۔سنو کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، نہ سرخ کو سیاہ پر اور نہ سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت ہے تم میں سے بہتر وہ ہے جو متقی ہے تم سب آدم کی اولاد ہو اور سب مٹی سے بنے ہو۔خطبہ کے آخر میں آپ نے فرمایا :- " کیا میں نے خدا کا پیغام تم تک پہنچا دیا۔“ سب نے یک زبان ہو کر کہا ” ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا تب آپ نے آسمان کی طرف اُنگلی اُٹھائی اور تین بار دہرایا " اے خدا گواہ رہنا میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔بچہ۔ایسا لگتا ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات کے قریب ہونے کا اندازہ ہو گیا تھا۔ماں۔جی بچے جو اس دُنیا میں آتا ہے خواہ نبی رسول ہو آخر تو جانا ہی ہوتا ہے محرم 11 ہجری میں آپ کو بخار ہوا۔بخار میں دوسری بیویوں کی اجازت سے حضرت عائشہؓ کے کمرے میں تشریف لے آئے۔سات آٹھ روز تک اسی کمزوری