گلشن احمد — Page 66
130 129 سب نشانیاں جو آپ کو بتا رہی ہوں ان میں سے کسی میں بھی انسان کا بس نہیں ہے صدیوں کی تبدیلیوں کے بعد یہ حالات یکجا ہوئے ہیں۔کوئی لاکھ کوشش کر دیکھے مصنوعی طور پر یہ حالات پیدا نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ کی تقدیر کے فیصلے ہیں۔مسیح موعود کا آنا کوئی معمولی بات نہیں۔خدا تعالیٰ نے آسمان کو بھی گواہ ٹھہرایا ہم پھر قرآن پاک سے بات شروع کرتے ہیں۔وَ خَسَفَ الْقَمَرُ وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (القيامة : 9: 10) چاند کو گرہن لگے گا اور اُس گرہن میں سورج بھی چاند کے ساتھ شامل ہوگا یعنی اُسے بھی اسی مہینہ میں گرہن لگے گا۔حدیث مبارکہ ہے۔إِنَّ لِمَهْدِيَنَا ايَتَيْن لَمْ تَكُونَا مُنذُ خَلْق السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ يَنكَسِفَ الْقَمَرُ لِاَوَّل لَيْلَهُ مِن رَمَضَانَ وَتَنْكَسَفُ الشَّمْسُ فِي النصف (دار قطنی ص188) ہونا۔منه یعنی ”ہمارے مہدی کے لئے دو نشان مقرر ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں یہ نشان کسی اور مامور کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے ان میں سے ایک یہ ہے مہدی معہود کے زمانے میں رمضان کے مہینے میں چاند کو اس کی پہلی رات میں گرہن لگے گا اور سورج کو اس کے درمیانی دن میں گرہن لگے گا۔“ اب دیکھئے اس حدیث میں چار باتیں جمع ہیں۔نمبر 1 چاند گرہن مقرہ راتوں میں سے پہلی رات میں ہونا۔نمبر -2 سورج کا گرہن اس کے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دنوں میں نمبر 3 رمضان المبارک کا مہینہ ہونا۔نمبر 4۔ایسے دعویٰ کرنے والے کا موجود ہونا جس کو جھوٹا کہا جا رہا ہو اور آسمان سے اس کی صداقت کے لئے یہ نشان ظاہر ہو۔ایسا نشان جب سے زمین و آسمان وجود میں آئے ہیں کسی اور کے لئے ظاہر نہیں کیا گیا۔بچہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوئی کے بعد 23 مارچ 1889ء کو پہلی بیعت لی تھی اور آپ کی مخالفت بھی ہوئی تھی۔یہ گرہن کن تاریخوں میں ہوئے تھے۔ماں۔سخت مخالفت میں یہ اعتراض بھی کئے گئے کہ چاند سورج گرہن تو ہوا نہیں یہ کیسے مہدی ہیں؟ پھر آپ نے اللہ پاک کے حضور رو رو کر دعائیں کیں آپ کی تائید میں زمین و آسمان کی تاریخ میں پہلی دفعہ 21 مارچ 1894ء مطابق 13 رمضان 1311 ہجری چاند کو اور 6 اپریل 1894ء مطابق 28 رمضان 1311 ہجری سورج کو گرہن لگا اور اگلے سال دوسرے گڑے میں رمضان کی انہی تاریخوں کو چاند گرہن لگا یعنی مارچ 1895ء مطابق 13 رمضان 1312 ہجری اور سورج کو 26 مارچ 1895 ء مطابق 28 رمضان 1312 ہجری کو گرہن لگا۔اس طرح ایک اور پیش گوئی پوری ہوئی۔إنَّ الشَّمْسَ تَنكَسِفُ مَرَّتَيْن فِي رَمَضَان یقیناً سورج کو رمضان میں دو دفعہ گرہن لگے گا۔( مختصر تذکرہ قرطبی ص 148 للقطب الروحانی شیخ عبد الوہاب شعرانی) بچہ۔سُبحان اللہ کتنی وضاحت سے پیش گوئی پوری ہوئی۔میں نے پڑھا تھا کہ حدیث میں آنے والے مسیح کی شکل و شباہت کے متعلق بھی پیش گوئی ہے۔ماں۔آپ نے ٹھیک پڑھا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کعبہ کا طواف کر رہا