گلشن احمد

by Other Authors

Page 67 of 84

گلشن احمد — Page 67

132 131 ہوں کہ ناگاہ ایک آدمی میرے سامنے آیا اس کا رنگ گندم گوں تھا اور بال سیدھے اور لمبے تھے اور اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے تھے۔میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے تو مجھے بتایا گیا کہ یہ ابنِ مریم ہے۔“ ( صحیح بخاری جلد دوم کتاب بدء الخلق ) ایک دوسری حدیث ہے۔مسیح دمشق سے مشرق کی طرف سفید منارے کے پاس نازل ہوگا اس حال میں کہ وہ زرد چادروں میں لپٹا ہوا ہو گا۔( صحیح مسلم جلد ثانی) بچہ۔گندمی رنگ عام طور پر ایشیائی خاص طور پر برصغیر کے علاقوں کے انسانوں کا ہوتا ہے۔ماں۔بالکل ٹھیک بالوں کے نرم اور سیدھا ہونے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ذکر مسیح ناصری کا نہیں مسیح قادیانی کا ہو رہا ہے۔اُن کے بال گھنگھریالے تھے۔دمشق کے مشرق کی طرف قادیان واقع ہے اور دو زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں۔سر سے موتی اور پانی جھڑنے سے مراد دُعا اور عبادات میں مصروفیت ہے۔بچہ کس زبر دست طریق پر پیشگوئی پوری ہوئی۔اَلْحَمْدُ لِله ماں۔ایک اور قرآنی پیش گوئی سنیے قرآن پاک میں ارشاد ہے۔وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمُ دَابَّةٌ مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمُ لا أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِايْتِنَا لَا يُوقِنُونَ (النمل:83) اور جب اُن کی تباہی کی پیش گوئی کی تباہی پوری ہو جائے گی تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک کیڑا نکالیں گے وہ ان کو کاٹے گا اس وجہ سے کہ لوگ ہمارے نشانات پر یقین نہیں رکھتے۔دَابَّةُ الأرْض کا مطلب زمینی کیڑا ہے۔اور یہی معنی یقینی ہیں۔کیونکہ قرآنِ پاک میں یہ لفظ سورہ سبا میں انہی معنوں میں آتا ہے کہ ایک زمینی کیڑا حضرت سلیمان علیہ السلام کے عصا کو کھاتا ہے۔“ بخاری و مسلم کی احادیث میں بھی دَابَّةُ الْأَرْضِ کا ذکر ہے کہ مسیح موعود کے زمانے میں ایک کیڑا نکلے گا جو ملک میں چکر لگائے گا اور مومنوں اور کافروں میں امتیاز کرتا جائے گا۔اب دیکھئے حضرت مسیح موعود کے زمانے میں 1900ء سے طاعون کے آثار شروع ہوئے پھر یہ شہر شہر گاؤں گاؤں گھومی اور ایک ایک دن میں کئی کئی سو افراد اس میں گرفتار ہو کر مر گئے جبکہ احمدی اور مرکز احمدیت قادیان اس سے نسبتاً محفوظ رہے نتیجتا احمدیت کو زبردست ترقی حاصل ہوئی اور دیکھتے دیکھتے احمدیوں کی تعداد ہزاروں سے لاکھوں تک پہنچ گئی۔مخالفین کے گھر دو طرح کا ماتم پڑا ایک تو طاعون سے خاندان کے خاندان مر گئے۔دوسرے احمدیت کی ترقی آنکھوں سے دیکھی۔بچہ۔مجھے ان باتوں سے اتنی دلچسپی پیدا ہو گئی ہے کہ اب انشاء اللہ میں ان کے متعلق زیادہ معلومات حاصل کر کے پوری دُنیا کو سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ جس کو تشریف لانا تھا وہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے تشریف لا چکے۔اور اُن کا ماننا در اصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔ماں۔اب تو احمدیت کی عمر سو سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔آپ سو سالوں میں احمدیت کی ترقی کے اعداد و شمار بھی جمع کریں مثلاً کتنی بیوت الحمد بنوا ئیں۔کتنے