گلشن احمد

by Other Authors

Page 59 of 84

گلشن احمد — Page 59

116 115 بچہ۔اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں دین سے غفلت کی بھی پیش گوئی فرمائی تھی اور مصلحین اور مجددین کی آمد کی بھی اس کے ثبوت میں کوئی قرآنی آیت بھی بتائیے؟ ماں۔آپ قرآن پاک لائیے اور سورہ جمعہ نکالئے یہ اٹھائیسویں پارے میں ہے۔تیسری اور چوتھی آیت پڑھئے۔بچہ۔أعُوذُ باللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمُ يَتْلُوا عَلَيْهَمُ ايَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب والحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلْلٍ مُّبِينٍ وَّاخَرِينَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ ط وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمِ ماں۔اس کا ترجمہ ہے۔وہی خدا ہے جس نے ایک ان پڑھ قوم کی طرف اُسی میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا جو (باوجود ان پڑھ ہونے کے) اُن کو خدا کے احکام سناتا ہے، اور اُن کو پاک کرتا ہے ، اور اُن کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے گو وہ اس سے پہلے بڑی بھول میں تھے اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی وہ اس کو بھیجے گا جو ابھی تک اُن سے نہیں ملی اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے۔بچہ۔یہ آپ نے پہلے بتایا تھا کہ آخرین میں آپ ﷺ کے دوبارہ تشریف لانے کے متعلق صحابہ کرام نے سوال کیا تو آپ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی پشت پر ہاتھ رکھ کر فرمایا۔” اگر ایمان دُنیا سے اُٹھ کر ثریا ستارے پر بھی چلا جائے تو پھر بھی ان فارسی الاصل لوگوں میں سے ایک شخص اُسے ہو۔وہاں سے اُتار لائے گا۔“ ( بخاری کتاب التفسیر تفسیر سوره جمعه ) کوئی اور آیت بھی بتائیے جس سے مصلحین کے آتے رہنے کا وعدہ ثابت ماں۔سورہ نور کی ایک آیت کا ترجمہ ہے۔وو اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور مناسب حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اُن کو زمین میں خلیفہ بنا دے گا جس طرح اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنا دیا تھا اور جو دین اس نے اُن کے لئے پسند کیا ہے وہ اُن کے لئے اُسے مضبوطی سے قائم کر دے گا۔“ (النور: 56) بچہ۔پہلے لوگوں سے کون مراد ہیں؟ ماں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کے بعد خلافت کا سلسلہ چلا اس سلسلے کے آخری نبی حضرت عیسی علیہ السلام تھے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے 1400 سال بعد تشریف لائے۔مسلمانوں سے اسی قسم کے سلسلہ خلفاء کا وعدہ ہے۔بچہ۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم سے وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے کیا ہے تو پورا ضرور ہو گا۔اس کا مطلب ہے اُمتِ محمدیہ میں بھی خلفاء کا طویل سلسلہ چلے گا۔اور جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چودھویں صدی میں حضرت عیسیٰ