گلشن احمد — Page 38
74 73 ( تذکره ص109 ) اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق 12 جنوری 1889ء بمطابق 9 جمادی الاول 1306 ہجری وہ موعود لڑ کا مرزا بشیر الدین محمود احمد پیدا ہوا آپ کی ابتدائی تعلیم آپ کی مقدس ماں حضرت نصرت جہاں بیگم کی آغوش میں اور گھر پر ہی ہوئی۔کہی۔قرآن پاک ناظرہ مکمل کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعائیہ نظم حمد و ثنا اُسی کو جو ذات جاودانی ہمسر نہیں ہے اُس کا کوئی نہ کوئی ثانی کم عمری سے ہی آپ کی غیر معمولی ذہانت اور جلد جلد ترقی کرنے کے آثار ظاہر ہونے لگے۔آپ دینی معاملات پر غوروفکر کرنے لگے۔آپ صرف گیارہ سال کے تھے جب آپ نے یہ سوچنا شروع کیا کہ میں خدا پر ایمان کیوں لاتا ہوں اور اُس کے وجود کا کیا ثبوت ہے ایک رات دیر تک اس مسئلے پر سوچتے رہے آخر دس گیارہ بجے آپ کے دل نے یہ فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔” وہ گھڑی میرے لئے کیسی خوشی کی تھی جس طرح ایک بچے کو اُس کی ماں مل جائے تو اُسے خوشی ہوتی ہے اس طرح مجھے خوشی تھی کہ میرا پیدا کرنے والا مجھے مل گیا۔سماعی ایمان علمی میں تبدیل ہو گیا۔“ آپ بچپن سے پابندی سے نماز پڑھنے کے عادی تھے۔آپ کی نماز رسمی نہ تھی بلکہ خدا تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق والی نماز تھی۔ابھی آپ گیارہ سال کے تھے کہ ایک دن صفحی یا اشراق کے وقت آپ نے وضو کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا با برکت جبہ پہنا اور اپنی کوٹھڑی کا دروازہ بند کر کے خوب روئے خوب روئے اور اقرار کیا کہ اب نماز کبھی نہیں چھوڑیں گے۔یہی اقرار کرتے رہے اور روتے رہے اور پھر ساری عمر اس عہد پر قائم رہے۔اسی عمر کا واقعہ ہے کہ آپ نے سوچا کہ کیا آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر اس لئے ایمان لاتے ہیں کہ وہ آپ کے والد ہیں؟ پھر آپ نے صداقت کے دلائل پر غور و فکر شروع کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں۔پھر یہ یقین اور ایمان عمر کے ساتھ بڑھتا رہا۔آپ انیس سال کے تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا۔آپ نے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرہانے کھڑے ہو کر عزم کیا۔”اے خدا میں تجھ کو حاضر ناظر جان کر سچے دل سے عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت احمدیت سے پھر جائے تب بھی وہ پیغام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے تُو نے نازل فرمایا ہے اس کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلا ؤں گا۔“ (سوانح فضل عمر حصہ اوّل ص 178) آپ نے قرآن شریف اور بخاری شریف حضرت خلیفۃ المسح الاول سے پڑھی۔آپ بہت جلدی پڑھتے اور ایسے ایسے نکات اخذ کر لیتے جہاں تک آپ کے ہم سبق ساتھیوں کا دماغ نہ جاتا۔پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا بھی شوق تھا۔آپ چاہتے تھے کہ احمدی نوجوان ہر لحاظ سے قابل ہوں اُن میں تبلیغ کا جنون ہو وہ دلائل سے مسلح ہو کر میدان عمل میں نکلیں۔اس غرض سے 1906ء میں ایک انجمن تفخیذ الا ذہان بنائی۔خود مضامین لکھے دوسرے نوجوانوں کو ترغیب دی۔تشخیذ الاذہان رسالہ میں آپ کے مضامین سے آپ کی علمی، دینی اور تحریری قابلیت کا چرچا ہونے لگا اس زمانے میں آپ نے احمد یہ دارالمطالعہ اور لائبریری