گلشن احمد — Page 62
122 121 نگران ہوگا۔☆ ☆ ☆ ☆ سواری کی اُونٹنیاں ترک کر دی جائیں گی ( صحیح مسلم کتاب الایمان ) دجال کا گدھا پانی پر بھی چلے گا ( ریل اور بحری جہاز ) سونا زیادہ ہو جائے گا اور چاندی لوگوں کو مطلوب ہو جائے گی۔( حذیفہ ابن الیمان حلیہ ابونعیم ) سُود بڑھ جائے گا۔عراق اپنے درہم اور غلے روک دے گا اور شام اپنے دینار اور غلے کو روک دے گا اور مصر اپنے غلے کو روک دے گا اور تم پھر ویسے کے ویسے ہو جاؤ گے جیسے کہ پہلے تھے (عربوں کے ہاتھوں سے شام ،عراق اور مصر نکل جائیں گے اور عرب میں پھر طوائف الملو کی ہوگی ) (مسلم) یا جوج ماجوج کو ایسی طاقت ہوگی کہ دوسری اقوام کو ان کے مقابلے میں بالکل مقدرت نہ ہوگی یا جوج ماجوج سے آگ سے کام لینے والی قوتیں روس اور امریکہ مراد ہیں) (مسلم ،ترمذی) ساعت) ☆ اس وقت غریب بر ہنہ لوگ بادشاہ ہوں گے (جمہوریت) ( حلیہ اشراط محمد اس وقت شرط زیادہ ہو جائیں گے۔( پولیس فورس اور حکومتی عملے ) کثرت سے زلزلے آئیں گے۔( حذیفہ ابن الیمان علیہ ابونعیم ) سورج اور چاند گرہن لگے گا۔(دار قطنی (188) ان مختصر عنوانات کو پھیلا کر بات کرنے کیلئے اور سمجھا کر ثابت کرنے کے لئے بہت وقت چاہیے۔کچھ کچھ تو آپ ساتھ ساتھ سمجھ رہے ہوں گے اب دُنیا کی متعلقہ علوم کی کتب پڑھ کر ان سب نشانوں کو یک جا کریں تو بغیر ذرا سے بھی شک کے فوراً چمکتے دن کی طرح فیصلہ ہو جاتا ہے کہ یہ سب نشانیاں اسی زمانے میں پوری ہوئی ہیں۔اور جب یہ واضح ہو جائے تو اس زمانے میں جس نے مہدی ہونے کا دعوی کیا ہے اُسے سچا ماننا ضروری ہے۔کیونکہ مہدی کو ماننا دراصل آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا ہے۔بچہ۔مجھے معلوم ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے وقت جو گزشتہ انبیاء نے نشانیاں بتائی تھیں انہیں پورا ہوتے دیکھ کر اُس وقت کے بعض علماء نے شہادتیں دی تھیں۔ماں۔جی ہاں۔آپ کو خوب یاد ہے۔آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ جب آپ نے اللہ پاک سے خبر پا کر دعویٰ کیا تھا تو اپنا بطور نبی تعارف کروانے میں کیا دلیل پیش کی تھی اور ابتداء میں آپ پر ایمان لانے والوں نے کس بات سے متاثر ہو کر آپ ﷺ کی تصدیق کی۔صلى الله بچہ۔سب سے پہلے تو آپ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے غار حرا کا سارا واقعہ بیان کر کے خوف کیا تو حضرت خدیجہ نے فوراً فرمایا۔” خدا کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔آپ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں اور بے کس کا بوجھ P اُٹھاتے ہیں اور آپ میں وہ اخلاق فاضلہ پائے جاتے ہیں جو اس زمانے میں بالکل ختم ہو گئے ہیں۔آپ مہمان نواز ہیں اور لوگوں کی جائز ضرورت میں اُن کی مدد کرتے ہیں۔“ ( بخاری جلد 1 باب علامات النبوت في الاسلام) حضرت ابوبکر حضرت علی ، حضرت زید بن حارث سب آنحضور ﷺ کی ذاتی خوبیوں سے متاثر ہو کر ایمان لائے۔ماں۔قرآنِ پاک نے بھی نبی کی گزشتہ عمر کی سچائیوں کو بطور ثبوت پیش کیا ہے۔