گلشن احمد

by Other Authors

Page 52 of 84

گلشن احمد — Page 52

102 101 امیر مقامی ربوہ صدر مجلس کار پرداز، ناظر ضیافت، ناظر زراعت ، چیئر مین ناصر فاؤندیشن ، صدر تزئین کمیٹی ربوہ ہمبر قضا بورڈ رہے نیز خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ میں بھی اعلیٰ ذمہ دار عہدوں پر رہے۔30 اپریل سے 10 مئی 1999 تک اسیر راہ مولی رہنے کی سعادت پائی۔1977 میں مکرمہ سیدہ امتہ السمبوح بیگم صاحبہ سے آپ کی شادی ہوئی آپ کی ایک صاحبزادی امتہ الوارث فاتح صاحبہ اور ایک صاحبزادہ مکرم وقاص احمد صاحب ہیں۔آپ کے انتخاب خلافت کے واقعات ساری دنیا کے احمدیوں نے بیک وقت ایم ٹی اے کے ذریعے دیکھے۔یہ انتخاب پہلی بار برصغیر سے باہر بیت فضل لندن میں ہوا۔۔جب آپ خلیفہ بنے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا کوٹ ، حضرت مصلح موعود کی انگوٹھی اور حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی پگڑی زیب تن کی ہوئی تھی۔آپ کا پہلا خطاب اگر چہ بہت مختصر تھا مگر دین حق کی تعلیمات کا خلاصہ تھا آپ نے فرمایا۔احباب جماعت سے صرف ایک درخواست ہے آج کل دعاؤں پر زور دیں۔دعاؤں پر زور دیں، بہت دعائیں کریں۔بہت دعائیں کریں ، بہت دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ اپنی تائید و نصرت فرمائے اور احمدیت کا یہ قافلہ اپنی ترقیات کی طرف رواں دواں رہے۔“ ترقیات کی طرف رواں دواں رہنے والی دعا مقبول بہ درگاہ الہی ہوئی اور۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو نئے سے نئے منصوبے سمجھائے۔جن میں اپنے فضل سے برکت عطا فرمائی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا الہام إِنِّي مَعَكَ يَا مسرور تذکرہ ص 630 ایڈیشن چہارم (2004) یعنی اے مسرور میں تیرے ساتھ ہوں۔زبان زد عام ہوا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونے کے نظارے ایمان کی مضبوطی کا باعث بن رہے ہیں۔2003 میں آپ نے حضرت خلیفہ اسیح ارابع رحمہ اللہ کی جاری فرمودہ تحریکات اور غلبہ دین حق کے لئے مختلف منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لئے آپ کے خطبات ،تقاریر اور مجالس عرفان کی تدوین واشاعت کے لئے طاہر فاؤنڈیشن قائم فرمائی۔2005 میں نظام وصیت کے قیام پرسوسال مکمل ہونے پر ایک سال میں کم از کم پندرہ ہزار نئے موصیان اور 2008 تک جب قیام خلافت کو سو سال مکمل ہوں تو کم از کم پچاس فیصد احباب جماعت اور سو فیصد عہدے داران کی اس نظام میں شمولیت کی تحریک فرمائی۔نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کے لئے دینی کتب کا مطالعہ خاص طور پر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلّم کی سیرت کی کتب کے مطالعہ کی تاکید فرمائی تا کہ اسلام ، بانی اسلام اور قرآن مجید پر ہونے والے ہر اعتراض کا جواب دے سکیں۔جرنلزم سیکھنے کی طرف راغب فرمایا۔انٹرنیٹ کے تحقیقی اور علمی فائدہ سے متمتع ہونے اور اس کے غلط استعمال سے منع فرمایا۔آپ نے خطبات کے سلسلوں میں سیرت پاک کے ہر پہلو پر ٹھوس معلومات اور دلائل بیان فرمائے۔میڈیا کے مؤثر ذرائع کو استعمال کر کے پیغام حق پہنچانے کے طریق بتائے سب سے بڑھ کر درود شریف کثرت سے پڑھنے کی تاکید فرمائی۔بیوت آباد کرنے ،تقویٰ کے لباس سے مزین ہونے کی اہمیت واضح فرمائی۔عصر حاضر کے خطرات کو بھانپتے ہوئے امن و عافیت کے حصار میں محفوظ ہونے کے لئے دعائیں پڑھنے کا ایک روحانی پروگرام دیا۔مثبت سوچ اور عمل کی راہیں متعین فرمائیں جن میں سرفہرست خدمت خلق ہے امداد مریضان ، امداد طلباء ، تعمیر بیوت، کفالت یتامی ،مرئم فنڈ۔