گلشن احمد

by Other Authors

Page 49 of 84

گلشن احمد — Page 49

96 95 ڈگری لی۔اپریل 1955 سے اکتوبر 1957ء تک لندن میں تعلیم حاصل کی۔1958ء میں حضرت مصلح موعود نے آپ کو وقف جدید کا ناظم ارشاد مقرر کیا۔وقف جدید کی خدمات کے دوران آپ نے گاؤں گاؤں قصبے قصبے کے دورے کئے۔غرباء میں گھل مل کر ان کے معاشی اور دینی مسائل کو بہت قریب سے دیکھا۔آپ کا تجربہ اور علم بہت وسیع ہوا۔بڑی محنت اور لگن سے ملک میں معلمین وقف جدید کا جال پھیلا دیا۔ہومیو پیتھک کے سستے اور مؤثر طریق علاج سے جہاں ان گنت لوگوں کو فائدہ پہنچا۔وہاں آپ کی ذات بھی ہر سطح پر زندگی کے ٹھوس حقائق سے آشنا ہوئی۔نومبر 1960 ء سے 1966ء تک نائب صدر خدام الاحمدیہ کے فرائض ادا کئے۔1960ء میں پہلی دفعہ جلسہ سالانہ سے خطاب فرمایا اور اس کے بعد سے ہر سال یہ عرفان کی بارش جاری رہی۔جماعتی رسائل میں مضامین لکھے۔مذہب کے نام پر خون اسی زمانے کی کتاب ہے جس کے تراجم کئی زبانوں میں ہو چکے ہیں اور زبردست خراج تحسین حاصل کر چکی ہے۔نومبر 1966ء سے نومبر 1969ء تک صدر مجلس خدام الاحمدیہ کی حیثیت سے یکم جنوری 1970 ء سے فضل عمر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا۔1957ء میں آپ کی شادی محترمہ آصفہ بیگم بنت مرزا رشید احمد صاحب سے ہوئی جو حضرت مسیح موعود کے پوتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار بیٹیوں محترمه شوکت محترمه فائزه محترمه یاسمین رحمن مونا اور محترمہ عطیۃ الحبیب طوبی سے نوازا۔( محترمہ آصفہ بیگم صاحبہ 3 اپریل 1992 کو انتقال فرما گئیں) 1974ء میں جب پاکستان اسمبلی کے سامنے حضرت خلیفہ اسیح الثالث ( نور اللہ مرقدہ ) نے جماعت احمدیہ کا موقف پیش کیا تو آپ کے ساتھ جو پانچ رکنی وفد تھا۔آپ اس کے ایک رکن تھے۔10 جون 1982ء کو اللہ تعالیٰ نے آپ کو جماعت احمدیہ کا چوتھا خلیفہ بنایا۔حسنِ اتفاق یہ کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی خلافت رابعہ کا انتخاب بھی جون میں ہوا تھا۔28 جولائی 1982 سے 12اکتوبر 1982ءتک آپ نے سویڈن ، ڈنمارک ، جرمنی ، سوئٹزر لینڈ ، سپین ،ہالینڈ اور برطانیہ کا دورہ کیا۔اس سفر کے دوران مختلف مواقع پر اجتماعات سے خطابات ، پریس کانفرنسز اور مجالس عرفان کے ذریعہ دعوت الی اللہ کا کام کیا۔10 ستمبر 1882ء کو بیت بشارت پیڈ رو آباد سپین کا افتتاح فرمایا۔اس مسجد کا سنگ بنیاد حضرت خلیفہ اسیح الثالث" نے 19 اکتوبر 1980 ء کو رکھا تھا۔اس موقع پر آپ کے خطاب ، پریس کانفرنس اور بیت بشارت کی تصویروں کی اشاعت نے دینِ حق کا تعارف کروایا۔یہ ایک بہت بڑی فتح تھی۔سات سو سال کے بعد سپین میں دین حق کے احیاء کی صورت بنی تھی۔اس بیت کی خوشی میں شکرانے کے طور پر آپ نے 29اکتوبر 1982ء کو بیوت الحمد سکیم کا اعلان فرمایا۔جس میں محض رضائے باری تعالیٰ کے حصول کے لئے غرباء کے لئے مکانات کی تعمیر کی تحریک فرمائی۔1977ء میں پاکستان کی حکومت پر قبضہ کر لینے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے ظاہری طور پر رائے عامہ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش میں نام نہاد علماء کو خوش کرنے کے لئے ان کے ایسے مطالبات تسلیم کئے جن سے عمومی طور پر جماعت احمدیہ کی شدید مخالفت کی لہر آگئی۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو پُر سکون رہنے اور خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق بڑھانے کی تلقین فرمائی۔دو گھڑی صبر سے کام لو سا تھیو آفت ظلمت و جورٹل جائے گی آہ مومن سے ٹکرا کے طوفان کا رُخ پلٹ جائے گا رُت بدل جائے گی ہے ترے پاس کیا گالیوں کے سوا ساتھ میرے ہے تائید ربّ الوری کل چلی تھی جو لیکھو پہ تیغ دُعا آج بھی اذن ہو گا تو چل جائے گی