گلشن احمد — Page 48
94 93 الثانی آپ کی خدمات سے بے حد خوش تھے۔اللہ تعالیٰ کے احسان والدین کی دعاؤں اور فطری سعادت کے نتیجے میں مرزا طاہر احمد کا بچپن ہی سے اللہ تعالیٰ سے تعلق استوار ہو گیا جو دن بدن مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ آپ کے بچپن کا ایک عجیب واقعہ لکھتے ہیں۔" اس بچہ کا ایک عجیب و غریب واقعہ میں تازیست نہ بھولوں گا۔1939 ء کی بات ہے ایک دن جناب عبد الرحیم تیر صاحب نے کسی بات پر خوش ہو کر کہا۔” میاں طاہر آپ نے ایک بات نہایت اچھی کہی ہے جس سے میرا دل بہت خوش ہوا ہے میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کو کچھ انعام دوں جتلائیں آپ کو کیا چیز پسند ہے۔“ تو اس بچہ نے جس کی عمر اس وقت ساڑھے دس سال تھی برجستہ کہا " اللہ " (تابعین ( رفقائے ) احمد جلد سوم سیرت اُم طاہر ) 5 مارچ 1944ء کو حضرت سیدہ اُمّ طاہر کا انتقال ہو گیا۔احباب جماعت کو اُن سے گہرا قلبی لگاؤ تھا۔اس لئے صرف مرزا طاہر احمد ہی کو نہیں ہر احمدی کو محسوس ہوا گویا اس کی اپنی مادر مہربان کا انتقال ہوا ہے۔آپ میٹرک کا امتحان دے رہے تھے۔6مارچ کو ریاضی کا پرچہ تھا۔آپ کی اُس وقت کی کیفیت آپ کے اُستاد محترم میاں محمد ابراہیم صاحب تحریر فرماتے ہیں۔آپا جان فوت ہو گئیں لیکن ہم طاہر احمد کو فوراً بغیر اس کے کہ وہ ذہنی طور پر اس خبر کو سننے کے لئے تیار ہو یہ اطلاع نہ دینا چاہتے تھے۔اس اثنا میں نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا۔طاہر احمد نے وضو کیا اور نماز کے لئے چلا گیا پھر وہاں سے گھبرایا ہوا آیا کیونکہ اس کی تلاش ہو رہی تھی دیوار پھاند کر اپنی امی کے بالائی صحن میں اُترا اور پوچھا کہ ” کیا بات ہے۔سید ولی اللہ شاہ صاحب کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے 66 66 اور کہا کہ فوت ہو گئیں۔“ طاہر خاموشی اور سکون کا مجسمہ بن کو تخت پوش پر بیٹھ گیا اور اس قدر صبر کا مظارہ کیا کہ مجھے خیال آیا ایسا نہ ہو غم اندر ہی اندر ان کو زیادہ تکلیف دے اس لئے ہم نے یہ کوشش کی کہ طاہر تھوڑا بہت روئے۔طاہر بھی اب بھر چکا تھا اور ایک حد تک آنسو بہا کر اپنی امی ہاں اُس امی کو جس کو ایک جہان رو رہا تھا یا د کیا اور کہا کہ ” مجھے دو تین مرتبہ ایسی خوابیں آچکی ہیں جن سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ بس امی فوت ہو جائیں گی ابھی چند روز ہوئے مجھے خواب میں امی نے کہا کہ میں اس چراغ کی طرح ہوں جو بجھنے سے پہلے ڈگمگا رہا ہو۔“ (الفضل 21 اپریل 1944ء) حضرت اُم طاہر مرحومہ نے خاص طور پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد سے طاری کا خیال رکھنے کی درخواست کی تھی آپ نے اس عہد کو نبھایا اور دینی علوم کے ساتھ ساتھ عمومی تربیت کا خاص خیال رکھا۔حضرت اُم طاہر کی وفات کے بعد حضرت مصلح موعود چالیس روز تک روزانہ حضرت مسیح موعود اور حضرت اُم طاہر کے مزار پر جا کر دُعا کرتے رہے۔آپ نے اسلام کی فتوحات کے لئے خاص اسباب پیدا کرنے کیلئے بہت دُعا کی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی تضرعات کو سُنا اور آپ کے بیٹے طاہر احمد کو جلیل القدر منصب کے لئے چن لیا۔آپ نے 1944ء میں ہائی سکول قادیان سے میٹرک کیا۔ایف ایس سی گورنمنٹ کالج لاہور سے کی۔1949 میں جامعتہ المبشرین ربوہ سے شاہد کی