گلشن احمد

by Other Authors

Page 40 of 84

گلشن احمد — Page 40

78 77 آپ کے موعود بیٹے کے ہاتھوں سے کھلے دل سے بانٹے گئے۔درس قرآن کا سلسلہ جاری فرمایا۔حفاظ قرآن تیار فرمائے۔دنیا بھر میں احمدیہ تبلیغی مراکز دراصل قرآنی تعلیم کے مراکز ہیں۔1928 ء سے فضائل القرآن کے عنوان سے تقاریر کا سلسله شروع فرمایا۔ان تقاریر میں قرآنِ کریم کے متعدد پہلوؤں پر عالمانہ تبصرہ فرمایا۔سوا تین سو صفحات پر مشتمل دیباچہ تفسیر القرآن اور دس ضخیم جلدوں میں تفسیر کبیر تحریر فرمائی جس کے حسن و خوبی کے بیان کے لئے کوئی بھی الفاظ کافی نہیں۔اپنے تو اپنے غیروں میں بھی جس نے بھی اس چشمے سے پانی پیا پھر زندگی بھر اس کی لذت نہیں بھولے۔آپ کے مبارک عہد میں قرآن کریم کا انگریزی ، جرمن ، ڈچ، ڈینش سواحیلی ، یوگنڈا ،ہمیندی ، فرانسیسی ، ہسپانوی ، اٹالین ، روسی پرتگیزی، کیکویو کی کاسا ، انڈو نیشین اور اسپرانٹو میں ترجمہ ہوا۔تفسیر صغیر کی صورت میں قرآن کریم کا با محاورہ ترجمہ مختصر تفسیری نوٹس کے ساتھ تحریر فرمایا۔اگر آپ کی زندگی کے دنوں کا شمار کریں اور اس ساری خدمت قرآن کا جائزہ لیں تو ثابت ہو گا کہ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ قرآنِ کریم کی خدمت میں گزار دیا۔1886ء میں سبز اشتہار کی صورت میں شائع ہونے والی پیشگوئی والی ساری خصوصیات حضرت مصلح موعود میں موجود تھیں جس پر عام طور پر آپ کو ہی موعود بیٹا سمجھا جاتا تھا لیکن آپ نے خدا کی اجازت کے بغیر اپنی زبان سے ایسا دعویٰ نہ کیا۔جنوری 1944ء میں حضور نے ایک خواب دیکھا۔یہ ایک طویل خواب تھا جس میں آپ کے ہی پیشگوئی کا مصداق ہونے کی واضح خبر دی گئی۔خواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی زبان سے یہ جملہ ادا ہوا و انا المسيح الموعود مثيله و خلیفتہ اور میں مسیح موعود ہوں یعنی اُس کا مثیل اور اُس کا خلیفہ ہوں۔اس سے آپ کو یقین ہو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک بیٹے کے متعلق پیشگوئی آپ کی ذات میں پوری ہو گئی ہے۔ہوشیار پور میں 20 فروری 1944ء کو ایک تاریخی جلسہ میں فرمایا :- میں خدا کے حکم کے تحت قسم کھا کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کے مطابق آپ کا وہ موعود بیٹا قرار دیا ہے جس نے زمین کے کناروں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پہنچانا تھا۔میں آسمان کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ یہ سلسلہ دنیا میں پھیل کر رہے گا۔حکومتیں اگر اس کے مقابلے میں کھڑی ہوں گی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی۔لوگوں کے دل سخت ہوں گے تو فرشتے اُن کو اپنے ہاتھ سے ملیں گے یہاں تک کہ وہ نرم ہو جائیں گے اور ان کے لئے احمدیت میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔(الفضل 24 فروری 1944ء) 28 جنوری 1944ء بیت اقصیٰ میں آپ نے اعلان فرمایا:۔” وہ میں ہی ہوں اور میرے ذریعے ہی وہ پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے موعود بیٹے کے متعلق فرمائی تھیں۔یادر ہے کہ میں کسی خوبی کا اپنے لئے دعویدار نہیں میں فقط خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک نشان ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے ہتھیار بنایا ہے اس سے زیادہ نہ مجھے کوئی دعوی ہے نہ مجھے کسی دعوی میں خوشی ہے میری ساری خوشی اسی میں ہے کہ میری خاک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھیتی میں کھاد کے طور پر کام آ جائے اور