گلشن احمد

by Other Authors

Page 35 of 84

گلشن احمد — Page 35

68 67 اگر میری لڑکی ہو اور مرزا صاحب اس کو سو برس کے بڈھے سے بیاہنا چاہیں تو ہر گز عذر نہ ہو۔“ (الحکم 17 مارچ 1901ء) آپ کی ذاتی زندگی بے حد سادہ تھی اور بناوٹ نام کو نہ تھی۔ذاتی خرچ صرف چند روپے تھا۔بالکل معمولی کرتا پاجامہ زیب تن فرماتے گھر یا مطب میں کوئی سجاوٹ کا سامان نہ تھا۔مطب کا یہ عالم تھا کہ ایک چٹائی پر اون کا بچھونا، ایک تکیہ اور ایک تپائی جس پر کاغذ رکھ کر نسخے لکھتے۔آپ نہایت درجہ خلیق ، ملنسار اور شگفتہ مزاج تھے۔بہت دوست نواز تھے۔آپ کے پاس ہر وقت آنا جانا لگا رہتا۔طالب علموں سے خاص شفقت فرماتے۔مساکین و یتامیٰ کا بہت خیال رکھتے۔آپ کے گھر میں کوئی یتیم اپنی اولاد کی طرح رہ رہا ہوتا۔آپ کے پاس بے شمار روپیہ آیا مگر آپ نے جمع کر کے نہیں رکھا۔ضرورت مندوں میں بانٹ دیتے۔عیدین کے موقع پر قادیان کے مستحق امداد لوگوں کو نام لکھ لکھ کر نقد رقم اور کپڑے تحفہ بھجواتے ایک دن کپڑے تقسیم کر چکے تو ایک شخص نے عرض کی میرے پاس پاجامہ اور جوتی نہیں۔آپ نے ایک طالب علم سے چادر لے کر پہنی اور اپنا پاجامہ اور جوتی اس کو دے کر ننگے پاؤں گھر چلے گئے۔عید کے لئے بلانے والا بار بار آ رہا تھا۔اللہ کی شان دیکھئے کہ لاہور سے کپڑے اور جوتی تحفے میں آگئے۔آپ نے پہنے اور عید کے لئے تشریف لے گئے۔روایت مولوی محمد جی صاحب) 8 نومبر 1910ء حضرت خلیفہ اسیح الاوّل گھوڑے سے گر کر شدید زخمی ہو گئے۔1905ء میں حضرت مسیح موعود نے آپ کے متعلق خواب دیکھا تھا کہ آپ گھوڑے سے گر گئے ہیں۔یہ خواب پورا ہوا۔اسی بیماری میں آپ کی وفات ہوگئی۔27 مئی 1908 سے 13 مارچ 1914ء تک جماعت احمدیہ کے پہلے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے کار ہائے نمایاں سر انجام دیے۔آپ کے مبارک عہد میں لنگر خانے کا انتظام صدر انجمن احمدیہ کے سپرد ہوا۔اندرونِ ملک میں با قاعدہ واعظ مقرر ہوئے جماعتوں میں سالانہ جلسے منعقد ہونا شروع ہوئے۔احمدی خواتین بھی بیت الاقصیٰ میں نماز جمعہ میں شریک ہونے لگیں۔احمدی نوجوانوں کو بغرض تعلیم مصر بھجوایا گیا۔آپ کے عہد میں بیت نور تعلیم الاسلام ہائی سکول جو بعد میں تعلیم الاسلام کالج بنا اور ہوٹل کی عمارت تعمیر ہوئی بیت اقصیٰ کی توسیع ہوئی۔بیرونی ممالک میں سب سے پہلا دار التبلیغ انگلستان میں قائم فرمایا۔جہاں حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب نے 1913ء میں پہلے مبلغ کی حیثیت سے کام کا آغاز فرمایا۔دینی تعلیم کے لئے مدرسہ احمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔جہاں سے جلیل القدر مربیان تیار ہوئے۔قرآن پاک کے انگریزی ترجمہ پر کام شروع ہوا۔امام وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئی مرتبہ آپ کو زبر دست خراج تحسین پیش کیا۔آپ نے تحریر فرمایا۔مولوی حکیم نور دین صاحب اپنے اخلاص اور محبت اور صفت ایثار اور اللہ شجاعت اور سخاوت اور ہمدردی اسلام میں عجیب شان رکھتے ہیں۔کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اُٹھا دینا اور اپنے لئے دُنیا میں سے کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں ہی دیکھی یا ان میں جن کے دلوں پر