گلشن احمد

by Other Authors

Page 29 of 84

گلشن احمد — Page 29

56 55 حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں غیر تربیت یافتہ نو مسلموں کی کثرت کے باعث باہمی اختلافات بہت بڑھ گئے چنانچہ جنگ جمل اور جنگ صفین میں بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور مسلمان شہید ہو گئے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عبد الرحمن بن نجم خارجی نے کوفہ کی مسجد میں شہید کر دیا۔اس طرح 40 ہجری بمطابق 661 عیسوی کو خلافت راشدہ کا اختتام ہو گیا۔خلافتِ راشدہ کے اختتام کے ساتھ بنو ہاشم اور بنو امیہ کی زمانہ جاہلیت کی رقابت دوبارہ جاگ اٹھی جو قریش کی دو مختلف شاخوں میں سے دو اہم شاخیں تھیں۔41 ہجری میں سارا عالم اسلام امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر جمع ہو گیا۔آپ خلافت بنو امیہ کے بانی تھے۔آپ کے دور میں صدر مقام دمشق منتقل ہو گیا۔اسلامی سلطنت میں وسعت ہوئی۔قبرص کا جزیرہ فتح کر لیا گیا۔آپ نے اپنے بیٹے یزید کو حکومت کے لئے نامزد کیا جس نے ظلم وستم کی انتہا کر دی۔حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ابن حضرت علی رضی اللہ عنہ کو میدانِ کربلا میں شہید کر دیا۔یزید کے بعد مروان بن الحکم خلیفہ ہوا۔حضرت عبد اللہ بن زبیر نے اپنی حکومت قائم کر لی۔عبد الملک کے بعد اُس کے بیٹے ولید بن عبد الملک کی خلافت میں اسلامی حکومت کی حدود چین سے یورپ تک پھیل گئیں۔قتیبہ بن مسلم ،طارق بن زیاد، موسیٰ بن نصیر محمد بن قاسم اور مسلمہ بن عبد الملک نے ترکستان و چین ،اندلس، سندھ اور شام میں فتوحات حاصل کیں۔سلیمان بن عبد الملک کے بعد 99 ہجری میں حضرت عمر بن عبد العزیز بن مروان بن حکم خلیفہ ہوئے۔آپ بہت نیک اور خدا ترس خلیفہ تھے۔آپ کے دور میں خلافتِ راشدہ کی یاد تازہ ہو گئی۔آپ کی خلافت کا عرصہ دو سال پانچ مہینے اور چار دن تھا۔وفات 25 رجب 101 ہجری (720 ء ) میں ہوئی۔پہلی صدی اسلام کے پھیلاؤ کی صدی تھی۔یزید بن عبدالملک کے بعد 105 ہجری میں ہشام بن عبد الملک خلیفہ ہوا۔ترکستان ، آرمینیہ ، آذربائیجان ، شمالی افریقہ ، اندلس اور سندھ میں مزید فتوحات حاصل کیں۔125 ہجری میں ولید بن یزید اور کچھ دوسرے خلفاء کے بعد مروان کے قتل کے ساتھ ہی 132 ہجری بمطابق 650ء بنو امیہ کا دور ختم ہوا۔بنو ہاشم کی شاخ بنو عباس نے عباسی تحریک شروع کی۔بنو عباس نے بنو امیہ کے ایک ایک فرد، مرد عورتیں بچے سب کو بے دردی سے قتل کیا۔اُن میں سے ایک شخص عبد الرحمن اول کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوا جس نے 755ء میں اُندلس میں بنو اُمیہ کی حکومت شروع کی جو 6 42 ہجری بمطابق 1036 ء تک قائم رہی۔عبد الرحمن الداخل الحكم ، عبد الرحمن الناصر اور المنصور نے قابل ذکر خدمات سر انجام دیں۔ڈھائی سو سال تک عیسائیوں کا مقابلہ کیا مگر ان کے شدید اختلافات اور بغاوتوں سے فائدہ اُٹھا کر عیسائی حکمران فرڈینینڈ اور ملکہ ازابیلا نے 1491ء میں غرناطہ کو تہ تیغ کر سر زمین اندلس کو مسلمانوں کے خون سے سرخ کر دیا۔کتب خانے جلا دیے۔قرطبہ اور غرناطہ جیسے حسین شہر کھنڈر بنا دیے اور سپین مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔بنو عباس نے 132 ہجری سے 655 ہجری تک حکومت کی پایہ تخت دمشق کی بجائے بغداد کو بنایا۔ابو جعفر منصور ہارون الرشید اور چند دوسرے خلفاء نے کامیابیاں حاصل کیں۔علم وفن کی ہر شاخ میں ترقی ہوئی۔یہ دور زیادہ تر سیاسی انتشار، بغاوتوں ،سازشوں اور شورشوں کا دور تھا۔نااہل خلفاء نے عباسیوں کے زوال میں مدد دی۔ایک متعصب شخص ابن علقمی کی دعوت پر تا تاری چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے حملہ کر کے آخری خلیفہ معتصم سمیت 16 لاکھ مسلمان قتل کر دیے۔عمارتوں کو آگ لگا دی۔شاہی محلات کا ساز و سامان لوٹ لیا۔قیمتی اور