گلشن احمد — Page 18
34 33 قرآن مجید دو پیارے بچو ہم نے اپنی کتابوں ”گل“ اور ” گلدستہ میں قرآن پاک کا پہلا پارہ لفظی ترجمے کے ساتھ شامل کیا تھا۔اس کی مدد سے آپ ترجمہ کرنا کافی حد تک سیکھ چکے ہوں گے۔اب آپ اس قابل ہیں کہ قرآنِ مجید مکمل با ترجمہ پڑھ سکیں۔اللہ پاک سے دُعا کر کے اپنے والدین اور اسا تذہ کی مدد سے جلدی جلدی ترجمہ سیکھئے۔آپ کو علم ہے کہ نصاب میں جو پہلا پارہ شامل تھا وہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے ترجمہ کا عکس تھا۔اب آپ حضرت میر صاحب کے ترجمے والا قرآن مجید لے لیجئے اس سے آپ لفظی ترجمہ سیکھ سکتے ہیں۔بامحاورہ ترجمہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ امسیح الثانی کی تفسیر صغیر سیکھئے۔آپ نے بعض جگہ وضاحتی نوٹ بھی لکھے ہیں جو قرآن پاک سمجھنے میں بہت مدد دیتے ہیں اور احمد یہ ٹیلی ویژن پر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ترجمۃ القرآن کی کلاسوں نے تو نرالا لطف دیا ہے۔آپ قرآنی حقائق کی صداقت کے ثبوت میں جدید ترین انکشافات پیش کرتے تھے۔آپ کا ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے احمدی بچو! ان کلاسوں اور ترجمہ سے باقاعدگی سے فائدہ اُٹھاؤ۔بچہ۔قرآن مجید پڑھنے کے فائدے جاننا چاہتا ہوں۔ماں۔قرآنِ کریم ہمارے پیارے اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔اُس نے اسے اپنے۔بندوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔اس میں کامل شریعت ہے۔اس سے اللہ تعالیٰ کا پیار اور محبت حاصل ہوتی ہے۔قرآن کریم سے پیار کرنا گویا اللہ تعالیٰ سے پیار کرنا ہے۔قرآن پاک پڑھنے والا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں آ جاتا ہے۔قرآنِ پاک میں ارشاد ہے۔يَرُجُونَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُورَ (فاطر: 30) قرآنِ پاک پڑھنے والے اللہ تعالیٰ سے محبت کا ایسا معاہدہ کرتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔قرآن کریم میں ساری الہامی کتب کی صحیح تعلیم جمع کر دی گئی ہے۔یہ دائی ہے۔جملہ انبیاء کے درست حالات اسی سے معلوم ہوتے ہیں۔اس میں آئندہ زمانے کی پیش گوئیاں اور حالات درج ہیں۔اس میں دُعائیں ہیں جو ہر قسم کی مشکلات سے نجات کے لئے عذاب آخرت سے بچاؤ کے لئے اور اللہ پاک کی مغفرت میں آنے کے لئے مانگی جاتی ہیں۔اس میں ہر قسم کے علوم کا خزانہ ہے۔عزت اور نجات اور اللہ پاک کو پانے کا صرف یہی ذریعہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن کریم پر عمل کر کے عزت پائی تھی۔یہ ایک زندہ کتاب ہے اس کے پڑھنے والے اُس گروہ میں شامل ہوتے ہیں جو انعام یافتہ ہیں۔یا الہی ترا فرقاں ہے یا اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا (ڈرمین) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔یقیناً یہ سمجھو کہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم بغیر آنکھوں کے دیکھ سکیں یا بغیر کانوں کے سُن سکیں یا بغیر زبان کے بول سکیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ بغیر قرآن کے اس پیارے