گلشن احمد

by Other Authors

Page 10 of 84

گلشن احمد — Page 10

18 17 تعالیٰ نے فرمایا۔وہ لوگ جن سے (بلا وجہ ) جنگ کی جا رہی ہے۔ان کو بھی جنگ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔“ (الحج : 40) بچہ۔گویا پہل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ دفاع کی اجازت ملی۔ماں۔مٹھی بھر نہتے مسلمان سارے عرب کے خلاف جنگ کی ابتدا کا سوچ بھی کیسے سکتے تھے۔اب جنگ ندر کا حال سینے اُس سال مکہ کے تمام مردوں اور عورتوں نے اپنے کل اثاثے سردارانِ قریش کو سامانِ جنگ خریدنے کے لئے دے دیے۔تا کہ مسلمانوں سے فیصلہ کن جنگ کریں وہ خوب تیار ہو کر نکلے۔مکہ اور مدینہ کے راستے میں مدینہ سے تقریباً اسی میل کے فاصلے پر ایک گاؤں بدر کے مقام پر قریش کا لشکر ، جو ایک ہزار کی تعداد میں تھا، آ کر ٹھہرا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلّم کو علم ہوا تو بارہ رمضان المبارک 2 ہجری (مطابق مارچ 624ء) شہر سے نکلے اللہ تعالیٰ کی مدد کے وعدے ساتھ تھے۔فریقین کی تعداد اور سامان میں کوئی مقابلہ نہیں تھا۔مسلمان تین سو تیرہ افراد تھے ان کے پاس ستر اونٹ دو گھوڑے اور سات زرہ پوش تھے۔سامان جنگ تھوڑا اور ناقص تھا جبکہ کفار تعداد میں ایک ہزار تھے اُن کے پاس سات سو اونٹ ،سوگھوڑے اور اکثر زرہ پوش نیزہ ،تلوار ، تیر کمان سے لیس تھے۔مسلمان بلندی پر جبکہ کفار نشیب میں تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلّم نے ریت کی مٹھی بھر کر کفار کی طرف پھینکی اور جوش کے ساتھ فرمایا۔دشمن کے منہ بگڑ جائیں۔ریت پھینکتے ہی زبر دست آندھی آئی جس سے دشمنوں کے پاؤں اکھڑنے لگے۔آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعائیں ”اے اللہ مجھے چھوڑ یو نہیں۔یا اللہ میں تیرا وعدہ تجھے دلاتا ہوں۔اے اللہ اگر تو مسلمانوں کی اس جماعت کو تباہ کر دے گا تو پھر اس زمین پر تیری پرستش کون کرے گا۔“ بچہ۔میں معاد اور معود والے واقعے کا بھی انتظار کر رہا ہوں۔ماں۔حضرت عبد الرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے دن اُن کے ارد گرد معاذ اور معوذ نامی کم سن لڑکے تھے دونوں نے باری باری پوچھا کہ ابو جہل کہاں ہے؟ اُن کے بتانے پر وہ باز کی طرح جھپٹے اور ابو جہل پر حملہ کر کے زخمی کر دیا اور وہ گر پڑا۔بعد میں حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس کا سرتن سے جدا کر دیا۔ہے۔بچہ۔بڑے بہادر لڑکے تھے ہماری کتاب میں اس واقعے کی تفصیل موجود ماں۔اس جنگ میں قریش کے ستر آدمی قتل اور ستر قید ہوئے جبکہ کل چودہ مسلمان شہید ہوئے۔مسلمانوں کی پوزیشن مضبوط ہو گئی۔قبائل عرب پر رعب پڑ گیا۔منافقین مدینہ مرعوب ہو گئے۔سب سے زیادہ مخالفت کرنے والوں میں سے اکثر مارے گئے۔بچہ۔پھر کیا ہوا؟ ماں۔پھر یہ ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بیٹی کی شادی کی خوشی کی تقریب ہوئی۔بچہ۔حضرت فاطمتہ الزہرا کی حضرت علی کے ساتھ۔ماں۔جی ہاں ! آپ نے یہ بھی پڑھا ہوگا کہ یہ شادی بے حد سادگی سے ہوئی تھی۔حضرت علی کے پاس ایک معمولی زرہ ،ایک بھیڑ کی کھال اور ایک بوسیدہ یمنی چادر تھی جو مہر میں دے دی اور شہنشاہِ دو جہاں کی لاڈلی شہزادی کو جو جہیز ملا وہ بھی سُن لیجئے۔بان کی چار پائی ، چمڑے کا گدا جس کے اندرونی حصے میں کھجور کے