گلشن احمد — Page 9
16 15 زمین پر مسجد نبوی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے رہائشی حجرے تعمیر ہوئے۔آپ کے حجرے اور مسجد کے درمیان دروازہ تھا۔مسجد نبوی تیار ہوگئی۔تو نماز کے لئے بلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن زید انصاری اور حضرت عمرؓ کو خواب میں اذان کے الفاظ سکھائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں الفاظ میں حضرت بلال کو اذان دینے کا ارشاد فرمایا ملے سے ہجرت کر کے آنے والوں کو مہاجر کہتے ہیں۔مدینہ کے بچہ۔مسلمانوں کو کیا کہتے ہیں؟ ماں۔مدینہ کے مسلمانوں کو مہاجرین مکہ کی مدد کرنے کی وجہ سے انصار کہتے ہیں یعنی مدد کرنے والے۔مہاجرین بالکل بے سروسامان آئے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا۔اس کو مواخات کہتے ہیں۔یہ دینی بھائی حقیقی بھائیوں کی طرح آپس میں پیار سے رہتے تھے۔مهاجرین میں بے وطنی اور رشتہ داروں سے دُوری کا احساس ختم ہو گیا اور وہ دلجمعی سے دینی کاموں اور تلاش معاش میں مصروف ہو گئے۔بچہ کیا اُن دنوں کوئی سکول ہوتے تھے۔ماں۔سکول کی طرز پہ مسجد نبوی کے ساتھ ایک سائبان تھا جسے عربی میں صفہ اور اس میں رہنے والوں کو اصحاب صفہ کہتے ہیں۔یہاں قرآن پاک سکھایا جاتا اور عبادات کی تعلیم دی جاتی۔ایک معلم مقرر تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلّم أن سے بہت محبت کرتے تھے اور خود بھی دینی تعلیم دیتے۔یہاں کے تعلیم یافتہ مبلغین کو درس و تدریس کے کاموں کے لئے بھیجا جاتا۔حالت یہ تھی کہ اکثر فقر و فاقہ میں گزر بسر ہوتی۔اُن کے پاس لباس نا کافی ہوتا۔کھانے کو کچھ نہ ہوتا مگر عشق الہی میں مگن وہ اسی حالت مطمئن رہتے۔بچہ۔شکر ہے مخالفت اور تکلیفوں کا سلسلہ تو ختم ہوا۔مدینہ کے متعلق بتائیے۔وہاں کے حالات کیا تھے؟ ماں۔مدینہ کے اطراف میں یہودی قبائل بنو قینقاع ، بنو نظیر اور قریضہ آباد تھے۔مدینے کے دو قبائل اوس اور خزرج آپس میں لڑ لڑ کر کمزور ہو چکے تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سب سے امن معاہدہ کر لیا۔ان کی سرداری ماند پڑ گئی جس کی وجہ سے دلوں میں رنجش اور منافقت آگئی مکہ سے ابو جہل اُن کو دھمکیوں کے خط لکھتا تھا۔قریش مکہ آنے جانے والے قافلوں کو لوٹتے اور مار دھاڑ کرتے اس طرح تمام عرب ایک طرف تھے اور مٹھی بھر مسلمان ایک طرف۔قرآن پاک میں ان دنوں کی حالت کا ذکر یوں ملتا ہے۔”اے مسلمانو! وہ وقت ک یاد رکھو جبکہ تم ملک میں بہت تھوڑے اور کمزور تھے اور تمہیں ہر وقت یہ خوف لگا رہتا تھا کہ لوگ تمہیں اُچک کر نہ لے جائیں یعنی اچانک حملہ کر کے تمہیں تباہ نہ کر دیں مگر خدا نے تمہیں پناہ دی اور اپنی نصرت سے تمہاری مدد فرمائی اور تمہارے لئے پاکیزہ نعمتوں کے دروازے کھولے پس تمہیں اب شکر گزار بندے بن کر رہنا چاہیے۔(سورۃ انفال:27) بچہ۔پھر تو وہ ہر وقت مسلمانوں کے خلاف منصوبے بناتے رہتے ہوں گے۔ماں۔میں اس کے متعلق پھر بتاؤں گی پہلے تحویل قبلہ اور روزوں کی فرضیت کا ذکر ہو جائے۔مسلمان شعبان 2 ہجری تک بمطابق جنوری فروری 624ء بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے قرآنی حکم کے مطابق مسلمانوں کو اپنا رُخ کعبۃ اللہ کی طرف پھیرنے کا ارشاد ہوا (البقرہ:143) اسی سال رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم ملا (البقرہ: 186) اسی سال پہلی شوال کو پہلی عید عید الفطر منائی گئی اور اسی سال مخالفین کی زیادتی پر جہاد کی اجازت ملی۔اور خدا ا