گلشن احمد

by Other Authors

Page 80 of 84

گلشن احمد — Page 80

158 157 رکھی جاتی ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ماں۔ہماری حیثیت انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ہم ایک معاشرہ کا حصہ ہیں ہم خود اپنی اصلاح کریں گے تو آہستہ آہستہ معاشرہ کی اصلاح ہو گی۔آج ہم بعض خوبیوں کا ذکر کریں گے جو افراد اپنا لیں تو جگمگ جگمگ چراغوں کی طرح معاشرہ میں روشنی پھیل جائے گی۔آپ کو پتہ ہے دینِ حق کا کیا مطلب ہے۔اس کا مطلب ہے تسلیم کر لینا، مان لینا، جھک جانا۔سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم صرف وہ چاہیں گے جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔اس کے احکام پر عمل کریں کسی بندش ، ز بر دستی یا بے دلی سے نہیں بلکہ ہمارے اندر سے، ہمارے دل اور دماغ سے یہ آواز اُٹھے کہ ہمیں صرف وہ کرنا ہے جو خدا تعالیٰ کو پسند ہے۔یہ جذ بہ شوق سے ، رغبت سے، خوش دلی سے پیدا ہو وہ عادات اپناتے جائیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔اس طرح ہم اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہو جائیں گے۔اس کے لئے آسان سا طریق یہ ہے کہ ہم بار بار زبان سے اقرار کریں۔بلند آواز سے بھی اقرار کریں اور دل ہی دل دل میں بھی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ہیں اُسی کے فرماں بردار ہیں اُسی کے وفادار ہیں۔پھر یہ اقرار ہمارے عمل سے ظاہر ہونے لگتا ہے۔ہمارے ارد گرد کے لوگ یہ جانے لگتے ہیں کہ اس شخص سے احکام الہی کی مخالفت کی توقع نہیں ہے۔بچی۔خدا تعالیٰ سے تعلق اسی طرح سے پیدا ہوتا ہے؟ ماں۔جی بچو! ہم عاجز انسان ہیں وہ بہت بڑا ، بہت عظیم ، بہت صفات کا مالک ، بادشاہوں کا بادشاہ خدا ہے۔اس سے تعلق پیدا کرنے کا پہلا گر عاجزی اور انکساری ہے۔ہم کمترین اور بے طاقت بندے ہیں۔وہ ہر لمحہ ہمارے حال سے واقف ہے اچھا کام کریں گے تو اپنی رحمت سے جزا دے گا ورنہ بُرا کام کرنے کی صورت میں (اللہ اپنی پناہ میں رکھے ) سزا دے گا۔حضرت صاحب نے بتایا تھا کہ فرشتے کمپیوٹر کی طرح ہماری ساری زندگی کی فلم بنا لیتے ہیں۔اعمال کی جزا سزا اُسی کتاب سے بنتی ہے۔بچی۔مجھے تو اس کمپیوٹر والی بات سے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ماں۔ڈرنا ہی چاہیے۔ہم جن باتوں پر ایمان لاتے ہیں اُس میں یوم آخرت پر ایمان بھی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے ہر وقت ڈرنا کہ کہیں ہم بُرا کام کر کے سزا نہ پائیں اور اللہ پاک سے اتنی محبت کرنا کہ ہر وقت اُس کی خوشنودی کے لئے دُعا کرنا اور بے قرار رہنا کہ کوئی ایسے راستے مل جائیں جن پر چل کر اُس تک پہنچا جاسکتا ہے۔انسان کو اچھا انسان بناتا ہے۔اب آپ بتائیے اب تک آپ کیا سمجھے ہیں۔بچہ۔زبان سے اور دل سے اللہ پاک کی محبت کا اقرار اور اُس کی اطاعت کرنی چاہیے۔بچی۔اور اللہ پاک سے ڈرتے رہنا چاہیے کہ وہ ناراض نہ ہو جائے۔ماں۔شاباش جتنی آسانی سے آپ نے یہ جملے کہے ہیں ان پر عمل کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔کسی چیز کو ہمارا دل کر رہا ہے مگر ہم کو علم ہے کہ اللہ پاک کو یہ بات پسند نہیں۔یہ امتحان ہے، ہم اپنی خواہشات کو چھوڑ کر اللہ پاک کی مرضی کے تابع ہو گئے تو ہم کامیاب ہو گئے۔یہ کوشش اپنے وجود سے شروع ہوتی ہے پھر دُنیا میں پھیلتی ہے۔ہم دُنیا میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتے ہمارا گھر ہوتا ہے ،خاندان ہوتا ہے ، رشتہ دار ہوتے ہیں ، پھر محلے دار ہوتے ہیں۔ہمیں سب کے لئے پیار محبت، خدمت گزاری اور رحمت کا وجود بننا ہے۔ہمارا حسنِ سلوک انہیں دائروں میں پھیلتے پھیلتے پوری دُنیا میں پھیل سکتا ہے۔بچی۔سب سے پہلے اور سب سے ضروری کس سے حسنِ سلوک ہے۔ماں۔اپنے ماں باپ سے حسن سلوک سب سے ضروری ہے ماں باپ سے