گلشن احمد

by Other Authors

Page 14 of 84

گلشن احمد — Page 14

26 66 25 بچہ۔یہ کیا بات ہوئی۔ہم تو سچے دین پر ہیں پھر یہ ذلت آمیز شرائط کیوں؟ ماں۔کچھ اسی قسم کا اظہار حضرت عمرؓ نے کیا تھا جب ایک مسلمان ابو جندل زخمی حالت میں آئے اور فریاد کی مجھے ساتھ لے جائیں مگر شرائط کے تحت انہیں ساتھ نہیں لے جا سکتے تھے اس موقع پر آپ نے پیار سے سمجھایا کہ ” دیکھو عمر ! میں خدا کا رسول ہوں اور خدا کے منشا کو جانتا ہوں اور اس کے خلاف نہیں چل سکتا۔وہی میرا مددگار ہے۔۔۔حدیبیہ سے واپسی پرسورہ فتح نازل ہوئی جس میں عظیم الشان بشارات ہیں۔بچہ۔اب میں سمجھا امی ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سب سے بہتر جانتے ہیں مگر یہ تو بتائیے کہ حضرت ابو جندل کا کیا ہوا۔ماں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تسلی دی۔’ ابو جندل صبر اور ضبط سے کام لو خدا تمہارے لئے اور مظلوموں کے لئے کوئی راہ نکالے گا۔بد عہدی نہیں کر سکتے ،، اور وہ زنجیروں میں بندھے ہوئے جس طرح مشکل سے بھاگ کر آئے تھے۔زنجیروں میں بندھے ہوئے اُسی طرح واپس چلے گئے۔بچہ۔صلح حدیبیہ کے بعد کچھ امن چین نصیب ہوا ہوگا۔ماں۔آپ نے بالکل ٹھیک سمجھا اس اطمینان کے دنوں میں فریضہ تبلیغ دین کے لئے کل عالم کے پیغمبر نے تبلیغ کو وسعت دی۔قریبی ملکوں کے بادشاہوں اور رؤسائے عرب کو تبلیغی خطوط لکھے۔ان تبلیغی خطوط پر مہر ثبت کرنے کے لئے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی اس پر محمد رسول اللہ کے الفاظ کندہ تھے۔بچہ۔کیا یہ انگوٹھی اب تک محفوظ ہے۔ماں۔نہیں بچے۔یہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلّم کے بعد حضرت ابو بکر پھر حضرت عمر کے پاس رہی اور پھر حضرت عثمان کے پاس بھی پہنچی۔مگر آپ سے ایک کنوئیں میں گر گئی اور باوجود تلاش کرنے کے مل نہ سکی۔بچہ۔اوہ ہو۔۔۔۔اچھا وہ بات جاری رکھے تبلیغ اسلام کے لئے خطوط کی۔ماں۔آپ اپنے ذہن میں چارٹ سا بناتے جائیں۔پہلا خانہ ملک کا دوسرا بادشاہ یا رئیس کا نام تیسرا قاصد رسول اللہ “ کا نام، ٹھیک ہے! روم قیصر ہر قل حضرت دحیہ کلبی ایران کسری خسرو پرویز حضرت عبداللہ بن خزاعہ سہمی عزیز مقوقس حضرت حاطب ابی بلتعہ جبش نجاشی حضرت عمرو بن امیه بیامه رئیس ہوزہ بن علی حضرت سلیط بن عمر بن عبد شمس رئیس حارث نسانی حضرت شجاعہ بن وہب الاسدی یہ خطوط (اپریل تا جون 628ء) ذوالحجہ تا محرم 7 ہجری لکھے گئے۔بچہ۔کوئی اب تک محفوظ ہے؟ میرا دل کر رہا ہے وہ خط دیکھ سکوں۔ماں۔خط کی عبارت آپ کو سنا دیتی ہوں۔شام محمد کی طرف سے جو خدا کا بندہ اور رسول ہے۔یہ خط ہرقل کے نام ہے جو روم کا رئیس اعظم ہے۔اس پر سلامتی ہو جو ہدایت کا پیرو ہے۔اس کے بعد میں آپ کو اسلام کی دعوت کی طرف بلاتا ہوں۔اسلام لاؤ گے تو سلامت رہو گے خدا آپ کو ڈ گنا اجر دے گا اور اگر آپ نہ مانے تو اہلِ ملک کا گناہ آپ پر ہوگا۔اے اہلِ کتاب ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہم میں اور تم میں یکساں ہے اور وہ یہ ہے ہم خدا کے سوا کسی کو نہ پوجیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو ( خدا کو چھوڑ کر خدا نہ بنائے۔اور اگر آپ نہیں مانتے تو گواہ رہو کہ ہم مانتے ہیں۔“