گلدستہٴ خیال — Page 92
۹۲ و اسیدها راسته ای که انسانی کی تخلیق کا مقصد خدا کے نزدیک یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو خدائے واحد کے قوانین کے مطابق گزارنے کی پوری سعی کرے اس مقصد کو حاصل کر نیکا ایک کارگر نسخہ صراط مستقیم کی تلاش اور پھر تلاش کے بعد اس راستہ پر پوری دلجمعی کے ساتھ ثابت قدم رہنا ہے۔روحانی مسافر کو اپنے اندر خدا تعالیٰ کی بیان کردہ نیک صفات کا پیدا کرنا اور اسکے ساتھ ساتھ التزام کے ساتھ دعا میں مصروف ہونا اور خدا کی نصرت کا طالب ہونا اور گمراہی سے محفوظ رہنا بھی ضروری ہے۔اللہ کریم اپنی پیاری کتاب میں فرماتے ہیں : وَمَا خلَقَتُ الجِنِّ وَالإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُون (سورۃ ٥١ آیت (٥٧ اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے خدا تعالیٰ کی عبادت صرف نماز تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اسکا احاطہ اپنے ذاتی اعمال پر بھی ہونا چاہئے جو خدا کی شان اور بلندی کیلئے سر انجام ہوں یہ عملی عبادت کا جیتا جاگتا نمونہ ہو گا جو ہر سوچ۔ہر لفظ۔اور ہر عمل پر حاوی ہو۔اسلامی عبادت بھی نیک کردار کا عملی ثبوت ہے جس کی تعلیم فرقان عظیم میں دی گئی ہے اور رسول مقبول ﷺ نے اپنی سنت سے اسکی تشریح فرمائی ہے بلا شبہ اس نیک آئیڈیل کا حاصل کرنا کوئی سہل کام نہیں ہے فی الحقیقت یہ نہ ختم ہونے والی جد و جہد ہے جس میں ترقی مرحلہ وار ہوتی ہے۔روحانی مسافر اپنی ہر کمزوری اور عیب سے آگاہ رہتا ہے مگر جادہ ء سفر پر وہ اپنی ترقی سے بھی ہر لحظہ آگاہ رہتا ہے نیز دوسرے لوگ بھی اس کی ترقی سے آگاہ رہتے ہیں جو اسکو جانتے اور اسکا مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں لوگ اس کے اطوار اور عادات میں خاص تبدیلیاں محسوس کرتے ہیں خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو