گلدستہٴ خیال — Page 90
۹۰ کا بھی یہی معاملہ ہے جس کا آجکل بہت چرچاہے ان باتوں کا کچھ ما حصل نہیں ماسوائے لا قانونیت کے۔ایک اور بہت ضروری چیز جسے روحانی مسافر کو ہمیشہ مستحضر رکھنا چاہئے وہ اچھے نیک دوستوں کی معیت میں وقت گزارنا ہے یہ کس قدر سچی بات ہے کہ انسان کی پہچان اسکے دوستوں سے ہوتی ہے یہ بہت اہم نکتہ ہے جسکو کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کونُوا مَعَ الصَّادِقِين (سورۃ ۹ آیت ۱۱۹) صادقوں کی (جماعت) میں شامل ہو جاؤ۔کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم ان لوگوں یا دوستوں کا بائیکاٹ کر میں جکو ہم پسند نہیں کرتے۔زندگی میں انسان کو ہر قسم کے شخص سے واسطہ پڑتا ہے اس لئے ہمیں اپنے قریبی دوستوں کے انتخاب میں بہت محتاط ہونا چاہئے جنکا طریقہ حیات قابل ستائش نہیں ہے رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ انسان کے کردار پر ان دوستوں اور رفقاء کا اثر ضرور ہوتا ہے جنکی معیت میں وہ رہتا ہے اس لئے مناسب یہ ہے کہ انسان اچھے لوگوں کی معیت میں اپنا وقت گزارے۔ہر چہ در کان نمک رفت نمک شد جن لوگوں کے ساتھ ہم رابطہ رکھتے ہیں ان کے قواعد زندگی اگر نیک نہیں تو ان سے پر ہیز مناسب ہے برے شخص سے پر ہیز مناسب ہے کیونکہ وہ دوسروں کیلئے ذلت ورسوائی کا باعث ہے یہ بات سونے کی طرح خالص اور سچی ہے کہ نیک دوستوں کی صحبت میں ہم نیک رہیں گے جبکہ برے دوستوں کی رفاقت بد چلنی کی طرف لے جاتی ہے جبھی تو کہتے ہیں بڑے دوستوں سے بچو کہ وہ تمہارا تعارف من جاتے ہیں مندرجہ ذیل تین امور انسان کی روحانی زندگی کو ترقی کی طرف لے جانے کی طرف بہت محمد ہوں گے اس لئے انکو ہمیشہ متحضر رکھیں ہی دعا ہے اپنی توجہ اعلیٰ آئڈیل پر مرکوز