گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 89 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 89

۸۹ تختہ کو دو لونچی عمارتوں کے درمیان رکھ دیا جائے تو ہر دانا شخص ایک طرف سے دوسری طرف چل کر جانے میں خوف کھا ئیگا کہ وہ کہیں زمین پر گر کر زخمی نہ ہو جائے جتنا کوئی شخص بلندی سے نیچے کی طرف دیکھے گا اتنا ہی اسکا گرنا زیادہ ممکن ہو گا اسکے بر عکس اگر وہ سیدھا دیکھے اور پورے اعتماد کے ساتھ اس تختہ پر چلے تو اس کو عبور کرنا مشکل نہ ہوگا۔رسہ پر چلنے والے بھی کبھی نیچے نہیں دیکھتے بعدیہ اگر انسان اپنے گناہوں کی طرف توجہ دیتا ر ہے تو بعید نہیں کہ وہ انہی گناہوں میں مبتلا ہو کر رہ جائے جن سے وہ اجتناب کرنا چاہتا تھا بہتر تو یہ ہے کہ وہ اپنی روحانی مقصد اور مطمح نظر کے لئے اوپر کی طرف دیکھے اس بات کے کہنے کا یہ مقصد نہیں کہ وہ گناہ کے ہونے اور خطرات سے خود کو آگاہ نہ رکھے کہنے کا مدعا یہ ہے کہ وہ اپنے گناہوں پر ہی اپنی توجہ مرکوز نہ کر دے کیونکہ یہ عادت اسکو اپنے پنجہ میں جکڑ سکتی ہے جنسی بے راہ روی کا تدارک بھلا کیسے ہو سکتا ہے اگر ہر وقت لوگوں کی توجہ اس طرف ہی مبذول ہوتی رہے جنس کا ان دنوں ٹیلی ویژن۔ریڈیو۔پر لیس کتابوں میعیز بین سینما گھروں حتی کہ بچوں کی کتابوں میں بھی اس کا بلا خوف ذکر کیا جاتا ہے لوگ کتنے بے شرم ہو کر اس کا روبار میں ملوث ہوتے ہیں حالانکہ یہ خدا کے قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے بجائے اسکے اگر ہم لوگوں کی توجہ پاک وصاف زندگی کے آئیڈیل کی طرف کریں تو اس سے انسانیت کی کتنی بہبودی ہو گی اور کتنوں کا کردار نکھر سکتا ہے ایک زمانہ میں خیال کیا جاتا تھا کہ سر عام بازار میں مجرموں کے سر قلم کرنے سے دیکھنے والے جرم کے ارتکاب سے پر ہیز کریں گے اس کے بر عکس پتہ یہ چلا کہ ایسی سزادینے کے معابعد تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو گیا جس سے نتیجہ یہ اخذ کیا گیا کہ ہوس پرستی سے ہوس پرستی جنم لیتی ہے یہی معاملہ جنس کے عام کھلے مناظر دکھلا نیکا ہے بلکہ زبانی اور لغو باتوں