گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 69 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 69

۶۹ آپ کا تقرر ما مور من اللہ کی حیثیت سے نہ ہوا تب تک آپ خلوت پسند رہے حالات نے آپکو گوشہ خلوت سے باہر لا کھڑا کیا۔جب آپ بچے تھے تو آپنے اپنے جذبات کا اظہار والد محترم سے یوں کیا تھا : میری خواہش ہے کہ میں زندگی کے باقی ایام کسی گوشه تنهائی میں گزار سکوں تا میں لوگوں سے اپنی توجہ ہٹا کر ذکر الہی میں اپنا وقت صرف کرسکوں شاید میں کھوئے ہوئے وقت کا ازالہ کر سکوں اور گزشتہ زندگی میں ہونے والی خطا نوں کی تلافی کو سکوں (لائف آف احمد مصنفہ اے۔آر۔درد ) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے گھر کے اندر دعا کی خاطر ایک خاص کمرہ ہو یا ہوا تھا جس کا نام بیت الدعا تھا آپ یہاں تنہائی میں لمبی پر خلوص دعائیں کیا کرتے تھے ایک موقعہ پر آپ نے چالیس روز تنہائی اور خلوت میں گزارے آپ نے ہدایت کی تھی کہ کوئی مہمان آپ سے ملنے نہ آئے سامنے کے دروازے پر قفل لگا دیا گیا تا آپ محل نہ ہوں خوراک لانے اور برتن اٹھانے کا وقت مقرر تھا یوں آپ نے ایک کمرہ میں اپنا وقت دعا ئیں کرنے مطالعہ کرنے اور مراقبہ کرنے میں گزار ا صرف نماز جمعہ ادا کرنے کیلئے آپ باہر تشریف لاتے تھے جو آپ ملحقہ مسجد میں ادا کر تے تھے یہ چالیس روز آپنے خدا تعالیٰ سے راز و نیاز کرنے اور حیرت زدہ مذہبی تجربات میں صرف کئے آئیے دیکھیں کہ تنہائی کی قدر کے موضوع پر دوسرے لوگوں نے کیا کہا ہے : خموشی میں خدا کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے یہ ذھن کو عا جز بناتی اور اسے دنیا سے الگ کر دیتی ہے (آرک بشپ فين لن Fenelon ) تنھا ئی اور خموشی میں روح تیز قدموں سے ترقی کرتی اور خفیہ صداقتوں اور خدا کے الہامات سے شناسائی حاصل کرتی ہے (ٹامس کیمپس (Kempis) نیند بھی خلوت کا ایک دور ہے جب انسان دنیوی امور سے کٹ جاتا ہے اور اس کے بعد تازہ دم ہو کر دوبارہ لوٹتا ہے نیند انسان کی صحت اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے بعینیہ روحانی