گلدستہٴ خیال — Page 68
تنہائی کی قدر کے کہا جاتا ہے کہ بڑے بڑے کارنامے تنہائی میں جنم لیتے ہیں۔یہ بات مسلمہ ہے کہ کئی عظیم انسانوں اور بڑی بڑی مذہبی شخصیتوں کا کردار تنہائی میں بنا۔یہ نہیں کہ ایسے لوگوں نے اپنا سارا وقت تنہائی میں ہی گزارا کیونکہ انہوں نے انسانیت کی خاطر اپنی خدمات بھی تو پیش کرنی تھیں آئیے ذرا حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی زندگی پر غور کریں جس کا ریکار ڈبائیبل میں موجود ہے اگر چہ وہ تبلیغ کے کام میں مصروف کار تھے انہوں نے تنہائی کی بھی وقتا فوقتا قدر بیان کی ہے بائیبل میں مذکور ہے : جب اپنے لوگوں کے جم غفیر کو واپس بھجوایا تو وہ پہاڑ پر دعا کرنے چلا گیا اور جب شام کا وقت ہوا تو وہاں اکیلا تھا ( متی بات ۱۴ آیت (۲۳) پھر ایک اور جعمہ آیا ہے : اور صبح کے وقت وہ دن چڑھنے سے پہلے میدار ہو گیادہ یا ہر گیا اور ایک گمنام جعبہ میں جا کر دعا میں مصروف ہو گیا ( مرقس باب ۱۔آیت ۳۵) سرور کونین سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بھی تنہائی میں جاکر تضرعانہ دعائیں کیں دیباچہ تفسیر القرآن میں لکھا ہے : رسول کریم ﷺ کی عمر جب تیس سال سے زیادہ ہوئی تو آپ کے ول میں خدا تعالیٰ کی رغبت پہلے سے زیادہ جوش مارنے لگی آخر آپ شہر کے لوگوں کی شرارتوں بدکاریوں اور خرابیوں سے متنفر ہو کر مکہ سے دو تین میل کے فاصله پر ایک پہاڑی کی چوٹی پر ایک پتھروں سے بنی ہوئی چھوٹی سی غار میں خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے لگے۔حضرت خدیجہ چند دن کی غذا آپ کے لئے تیار کر دتییں آپ وہ لیکر حرا میں چلے جاتے تھے اور ان دو تین پتھروں کے اندر بیٹھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت میں رات اور دن مصروف رہتے تھے (صفحه ۱۳۳) پھر آپ رات کی خموشی میں اٹھ کر گھنٹوں عبادت الہی میں مصروف رہتے یعنی نماز تہجد ادا کرتے جو آدھی رات اور پو پھٹنے کے درمیان ادا کی جاتی ہے بانی سلسلہ احمدیہ حضرت میرزا غلام احمد صاحب بھی تنہائی پسند فرماتے تھے جب تک