گلدستہٴ خیال — Page 66
۶۶ نہ تھی بلکہ بھوک کا فقدان تھا یہی حال ہم میں سے بہت سے لوگوں کا ہے ہم روحانی ہدایت اور روحانی ماحول میں تو اپنے آپ کو پاتے ہیں مگر ہمیں اسکی بھوک بلکل نہیں خدا نے ہمیں آسمانی مائدہ سے مستفید کیا ہے مگر ہم میں سے بہتوں کو بھوک نہیں ہے جن خوش قسمت لوگوں کو روحانی بھوک لگتی ہے وہ خدا سے ملنے والے لذیذ پھلوں سے اپنی بھوک ختم کرتے ہیں ایسے پھل جو ان کو نہ صرف وقتی طور پر بلکہ آنیوالے وقتوں میں بھی انکی پرورش اور دیکھ بھال کرتے ہیں خداوند کریم نے ہمیں روحانی قوانین ہماری ہدایت اور روحانی پرورش کے لئے دئے ہیں مگر ہم میں سے بہتوں کو اس آسمانی غذا کی بھوک ہی نہیں ہے۔اف یہ زندگی کا زیاں نہیں تو اور کیا ہے ؟ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے۔اِن اکر مَكُم عِنْدَ اللَّهِ أَنقُكُم (سورة الحجرات (۱۴ اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ پر ہیز گار ہے اور بائیبل میں مذکور ہے مبارک ہیں وہ لوگ جو تقویٰ کے حصول کیلئے بھوک اور تشنگی کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ انکو جی بھر کر دیا جائیگا ( متی باب پانچ آیت (۶) وہ شخص جو اپنی روحانی بھوک کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے وہ ہر وقت روحانی غذا کے حاصل کرنے اور اس سے متمتع ہو نیکی پوری پوری سعی کرتا ہے وہ اپنے ذہن کو نیک خیالات سے ہمیشہ بھرے رکھتا ہے اور اپنے کردار کو ہر وقت نکھارنے کی پوری پوری سعی کرتا ہے گویا یہ اسکا فریضہ لول ہے۔یہی اسکی زندگی کا مرکزی مقصد ہے اسکی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ بلندی کی طرف پرواز کرتا رہے۔وہ اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی پوری سعی کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے اسکو پوری توجہ۔کوشش۔قربانی۔اور