گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 65 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 65

۶۵ روحانی تشنگی داره ما استبقوا الخیرات۔تم نیکیوں کے حصول ميں ايك دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو (البقرة (١٤٩ بہت لوگ ایسے ہیں جو مذ ہبی اجتماعات میں بڑے جوش و خروش سے شرکت کرتے ہیں مگر الوداع ہوتے وقت وہ خالی ہاتھ جاتے ہیں جسطرح وہ آئے تھے ان میں کوئی نئی تبدیلی یا پہلے سے بہتر تبدیلی نظر نہیں آتی وہ خطبہ یا تقریر یا مقرر کے روح پرور الفاظ کی تعریف تو کرتے ہیں مگر انکی تعریف کی حد صرف اتنی ہے جسطرح وہ موسیقی یا نغمہ سن کر اسکی بے حد تعریف کرتے ہیں اسی طرح وہ مقرر کے خطاب سے وقتی طور پر محفوظ ہوتے ہیں جب تقریر ختم ہو جاتی ہے تو اسکا اثر بھی زائل ہو جاتا ہے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس مذکورہ فعل میں قصور کرتا ہے ؟ تقریر کرنیوالے کا یا سننے والے کا ؟ اگر تو مقرر کی تقریر کرنیکا انداز مردہ ہے یا وہ ایک ہی آواز اور سر میں زیرو ہم کے بغیر تقریر کرتا ہے تو اسکی تقریر بورنگ ہوتی ہے مگر حقیقت اسکے بر عکس ہے قصور اس میں سننے والے فرد کا ہے جس میں روحانی غذا وصول کر نیکی بھوک یا تفنگی نہیں ہوتی کہاوت ہے کہ ایک عورت بیمار تھی اسکو مشورہ دیا گیا کہ وہ کسی گرم آب و ہواوالے ملک میں منتقل ہو جائے وہاں جا کر اپنے اپنے واقف کاروں کو خطوط لکھے کہ یہاں موسم کتنا اچھا ہے خوبصورت مناظر اور مزیدار پھل دستیاب ہیں اپنے مختلف قسم کے پھلوں کی تفصیل بھی لکھی مگر اسکے ساتھ اپنے یہ بھی لکھا کہ اسکو بھوک بلکل نہیں لگتی بعد میں خبر آئی عورت اتنے صحت بخش پھلوں کے ہونے کے باوجود مرگئی تو اسکے مرنے کی وجہ پھلوں کی عدم موجودگی