گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 147 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 147

۱۴۸ انہوں نے مجھے بتائے مگر اتفاق سے مجھے صرف ایک واقعہ یا درہ گیا جو قارئین گلدسته خیال کی ازدیاد ایمان کے لئے پیش کرتا ہوں جب انہوں نے احمدیت قبول کی تو اسکے معابعد فوج کی ملازمت سے فارغ ہو کر انہوں نے اپنی زندگی تبلیغ اسلام کیلئے وقف کر دی اور ابھی تک کنوارے تھے اور پھر انکی شادی ایک احمدی انگریز مسٹر ویلز جو بینک میں ملازم تھے انکی دختر عائشہ سے ہو گئی آرچر ڈ صاحب نے چونکہ اپنی زندگی وقف کی ہوئی تھی اس وجہ سے انہیں مرکز یعنی قادیان سے گذر لوقات کے لئے وظیفہ ملتا تھا۔تقسیم ہند کے بعد جب مرکز ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو آرچرڈ صاحب نے حضرت خلیفتہ السیح الثانی کی خدمت میں لکھا کہ موجودہ حالات میں میں مناسب نہیں سمجھتا کہ مرکز سے اپنے لئے اخراجات لوں اس وجہ سے میں محنت مزدوری کر کے اپنی گزر اوقات کروں گا اور انشاء اللہ تعالٰی تبلیغ جاری رکھوں گا۔۔اسکے بعد یہ اخبارات فروخت کیا کرتے اور استعمال شدہ ڈاک کے ٹکٹ کا کاروبار کرتے تھے (انگلستان میں اسکا کاروبار خوب ہوتا ہے) اور اسی معمولی آمد سے ایک اخبار بغرض تبلیغ سا ئیکلو سٹائل کر کے مفت تقسیم کرتے تھے کہنے لگے کہ ایک دن میری بیوی نے کہا کہ مسٹر آرچرڈ تمہاری موجودہ آمد سے ضروریات زندگی کما حقہ پوری نہیں ہو تیں میری بچی کو صحیح طور پر غذا نہیں ملتی علاوہ ازیں مجھے لباس میں بھی کافی تکلیف رہتی ہے مسٹر آرچرڈ آج آپکو دوباتوں میں سے ایک کا فیصلہ کرنا ہو گا یا مجھے رکھ لو یا وقف کوہ میں ان حالات میں زندگی نہیں بسر کر سکتی۔آرچرڈ صاحب کہنے لگے میری زندگی کے یہ نازک لمحات تھے میں سخت پریشانی کے عالم میں تھا میرے لئے یہ بہت زیادہ تکلیف دہ لمحات تھے میں صبح سے تیسرے پہر تک اسی غور و فکر میں غرق رہا اور کہتا تھا کہ الہی کیا کروں نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن آخر کار عصر کی نماز