گلدستہٴ خیال — Page 148
۱۴۹ کے وقت میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تمہیں چھوڑ سکتا ہوں مگر وقف کو نہیں چھوڑ سکتا تو میری بیوی بولی اچھا تو پھر میں جاتی ہوں میں نے کہا بصد شوق وہ بولیں کہ میں اپنی لڑکی کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گی میں نے کہا ہاں لے جا سکتی ہو اب غور فرمائے کہ خداوند تعالیٰ کتنا غیور خدا ہے کہ ایک شخص نے خدا اور اسکے دین کی خاطر اپنی جوان بیوی اور اپنی اکلوتی اولاد کو چھوڑا تو غیور خدا نے جو ذرہ نواز بھی ہے آرچرڈ صاحب کو حضرت خلیفتہ المبح الثالث کے ماموں کی صاحبزادی کا رشتہ دے دیااور ان سے اب ان کے پانچ بچے ہیں الحمد للہ اس ضمن میں ہی مجھے ایک عجیب واقعہ جو میرے ذہن پر ملسط رہتا ہے وہ بھی زیب قرطاس ابیض ہے مینے ایک کتاب میں پڑھا کہ مہاتمہ بدھ اپنے باپ کے اکلوتے بچے تھے اور اپنے باپ کی وسیع سلطنت کے واحد جانشین۔دنیا کا بہت گہری نظر سے مطالعہ کرنیکے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ دنیا بہت دکھی ہے چاروں طرف مصائب اور آلام کے پہاڑ ہیں اس لئے کچھ کرنا چاہئے اور ایک شب جب وہ ان خیالات میں غرق تھے تو انہوں نے دنیا چھوڑنیکا فیصلہ کر لیا جب محل سے نکلنے لگے تو خیال آیا کہ بیوی سے آخری ملاقات کرلوں مگر پھر سوچا کہ اسکی محبت بھری آنکھیں میرے پیروں میں زنجیر میں ڈال دیں گی اور میں نہیں جاسکوں گا ایک طرف انکا سال بھر کا بچہ سو رہا تھا خیال آیا کہ اسکو گود میں اٹھا کر پیار کرلوں معا خیال گذرا کہ اگر وہ رو پڑا تو ماں نیند سے بیدار ہو جائیگی پھر خیال آیا کہ ماں باپ سے آخری ملاقات کرلوں مگر اس خیال سے کہ اگر ما تا۔پتانے جانے سے منع کیا تو یہ والدین کے فرمان کی حکم عدولی ہو گی جو پاپ ہے ان خیالوں میں گم انہوں نے اس اندھیری رات میں محلات چھوڑ دیے دنیا چھوڑ دی اور پھر ایک درخت کے نیچے بیٹھے اور خدائے واحد کے تصور میں کھو گئے