گلدستہٴ خیال — Page 137
۱۳۸ ایک مبلغ ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب ہیں آپ ان سے خط و کتابت کریں وہ آپ کو نہ صرف لٹریچر پڑہنے کو دیں گے بلکہ آپ کے شکوک و شبہات بھی دور کریں گے۔آرچرڈ صاحب نے کہا کہ اچھا میرا تعارف مفتی صاحب سے کرا دو۔میں نے قادیان حضرت مفتی محمد صادق کی خدمت میں تحریر کیا کہ برائے مہربانی آپ لیفٹیننٹ آرچرڈ کو ایک جلد اسلامی اصول کی فلاسفی اور ایک جلد احمدیت یا حقیقی اسلام روانہ کر دیں کتابوں کی قیمت اور ڈاک خرچ میں ادا کر دوں گا۔تقریباً ایک ڈیڑھ ہفتہ کے بعد مسٹر آرچرڈ کو مفتی صاحب کی طرف سے خط اور کتابوں کا پارسل موصول ہوا۔جس کا انہوں نے مجھ سے تذکرہ کیا اور اسکے بعد انہوں نے کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی کا مطالعہ شروع کر دیا ایک روز مسٹر آرچر ڈ ا سلا می اصول کی فلاسفی کا مطالعہ میں مصروف تھے میں ادھر سے گزرا انہوں نے مجھ سے باتیں شروع کر دیں اور کہا کہ اسلام کی تعلیم تو اچھی ہے مگر ایک بری بات یہ ہے کہ اسلام عیسائیت پر حملے بہت کرتا ہے جو با میں نے عرض کیا کہ اب آپکا فرض ہے کہ آپ اس بات کی تحقیق کریں کہ اسلام کے یہ حملے صحیح ہیں یا غلط۔اتنے میں ایک اور مسلمان لیفٹیننٹ محمد غفار علوی جو بعد میں پاکستان آرمی سے میجر کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے ادھر آنکلے۔مسٹر آرچرڈ نے ان سے بھی باتیں شروع کر دیں اور ان سے بھی مذکورہ سوال دہر لیا انہوں نے جواب دیا کہ یہ باتیں عبد الرحمن سے ہی پوچھیں یہی آپ کو بتائے گا میں نے کہا کہ اگر کوئی شخص چور ہو تو اسے چور کہنا حملہ کرنا نہیں ہے بلکہ امر واقعہ کا اظہار ہے ہاں کسی ایسے شخص کو چور کہنا جو چور نہ ہو الزام اور حملہ ہے اور ایسا نہیں کرنا چاہئے اب آپ اس کتاب کو اس نظریہ کے تحت مطالعہ کریں کہ کیا اسلام عیسائیت کے بارہ میں جو کہتا ہے وہ حقیقت ہے یا نہیں اگر حقیقت ہے تو اسکو حملہ نہیں کہہ سکتے اور اگر حقیقت نہیں تو واقعی حملہ