گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 107 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 107

1۔2 ساعت مرگ که اس چیز کو کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا کہ جلد یا بد پر موت ہمیں ایک روز اپنی آغوش میں لے لیگی موت سے کسی کو مفر نہیں ہے ہم سے پہلے نسل در نسل انسان اس دار فانی سے کوچ کر چکے ہیں کوئی شخص اس سے بچ نہیں سکالور نہ ہی مستقبل میں اس سے کوئی بچ سکریگا بائیل میں مذکور ہے : بھلا کوئی ایسا انسان ہے جو زندہ رہے اور موت کو نہ دیکھے (زبور باب ۸۹ - ۴۸ ) قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے كُلِّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ المَوت۔(سورۃ ۳ آیت ۱۸۶) ہر ایک جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔میرا قارئین گلاسته خیالی سے سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے ساعت مرگ کے بارہ میں سنجیدگی سے غور کیا ہے ؟ کیا ہم اس خاص گھڑی کیلئے تیار ہیں ؟ یہ بڑی بدنصیبی کی بات ہے کہ ہم میں سے بہت اس بارہ میں کوئی خاص توجہ نہیں دیتے۔یا بہت کم توجہ دیتے ہیں بات یہ ہے کہ ہم دنیوی امور کے گرداب میں اسقدر پھنسے ہوئے ہیں کہ اس اہم بات کیلئے ہمارے پاس سوچنے کا وقت ہی نہیں۔قرآن مجید میں ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ انسان کی پیدائش کا مقصد خدا تعالیٰ کی عبادت ہے جو دعا۔نیک کردار۔اور ہر وقت اس حقیقت کی آگہی سے ہوتی ہے کہ یہ زندگی تو اخروی زندگی کی تیاری کا سنہری موقعہ ہے۔قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتے ہیں : يقوم إِنَّمَا هُذِهِ لِحَيَوةُ الدُّنْيَا مَتَاعَ وَإِن الْآخِرَةَ هِيَ دَارَ القرار ٥ (سورۃ ۴۰ آیت (۴۰) اے میری قوم یہ ورلی زندگی صرف ایک چند روزہ فائدہ ہے اور اخروی زندگی ہی یقینا پائیدار ٹھکانا ہے پھر سورة الانعام میں ارشاد ہوتا ہے : وَمَا الحيوةَ الدَّنْيَا الأَلَعِب وَلَو وَلَدَارُ الآخِرَةَ خَيرٌ لِلذِينَ يَتَقُون أَفَلَا تَعْقِلُونه (سورۃ ٦ آیت (۳۳) اور ورلی زندگی کھیل اور مشغلہ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لئے پیچھے آنے والا گھر یقینا بہتر ہے پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے