گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 76 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 76

ZY عیب جوئی کے تعمیری تنقید اور بلاوجہ غلطیاں نکالنے میں بڑا فرق ہے لاریب کسی شخص کی بھلائی کی خاطر اسکی کمزوری کی طرف توجہ دلانا اچھا فعل ہے لیکن اسکی شرط یہ ہے کہ شخص مذکور کو مناسب رنگ میں توجہ دلائی جائے اس مضمون میں ہم ان اصحاب کی نشاندہی کریں گے جو تنقید محض خامی تلاش کرنے کی خاطر کرتے ہیں یہ اصحاب ایسے ہیں جو شیشے کے محلوں پر پتھر نہیں پھینکنے چاہئیں اسکے ساتھ ہی انہیں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے یہ الفاظ ذہن نشین رکھنے چا ہیں : تم اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا کیوں دیکھتے ہو جبکہ خود تمہاری اپنی آنکھ میں شہتر موجود ہے (متی باب ۷ آیت ۳) اسی موضوع پر قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے : يَا نَمَا الذِينَ آمَنُوا لَا يَسخَر قَومٌ مِن قَومٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُم وَلا نِسَاء مِن نِسَاءٍ عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ وَ لَا تلمزوا أنفسكُم وَلا تَنَابَزُوا بِالا القاب (سورۃ ۴۹ آیت (۱۲)۔۔اے مومنو کوئی قوم کسی قوم سے اسے حقیر سمجھ کر ہنسی مذاق نہ کیا کرے ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہو اور نہ کسی قوم کی عورتیں دوسری ( قوم کی) عورتوں کو حقیر سمجھ کر ان سے ہنسی ٹھٹھا کیا کریں ممکن ہے کہ وہ دوسری قوم یا حالات والی عور تیں) ان سے بہتر ہوں اور نہ تم ایک دوسرے پر طعن کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے ناموں سے یاد کرو گہیں ہانکنا ہم سب کی مشترکہ کمزوری ہے اگر ہم لوگوں کے متعلق فیاضانہ طریق سے گفتگو کر میں تو شاید یہ اتنی مملک چیز نہ ہو لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا ہے ہماری آنکھیں اور ہمارے کان لوگوں میں نقص تلاش کرنے میں تیز ہو تے ہیں۔چہ جائیکہ خوبصورتی کے پہلو تلاش کریں پھر ہماری زبان دوسروں کی کمزوریاں گننے میں بہت لطف حاصل کرتی ہے قرآن پاک کی یہ ہے کہ دوسروں کے عیب نکالنا اور بلاوجہ قابل ضرر تنقید کرنا قابل ستائش فعل i