گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 77 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 77

66 نہیں ارشاد ربانی ہے : يَا أيهَا الذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِ إِن بَعْضَ الظَّنِ إِنَّمَ وَ لا تَجْسَسُوا وَلَا يَعْتَب بَعضُكُم بَعضا - (الحجرات آیت (۱۳) اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے چیتے رہو کیونکہ بعض گمان گناہ بن جاتے ہیں اور ججس سے کام نہ لیا کرو اور تم میں سے بعض۔بعض کی غیبت نہ کیا کریں کوئی شخص بلا وجہ تنقید اور عیب جوئی کا نشانہ بنا پسند نہیں کرتا ہے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسکا موازنہ بہتر رنگ میں کیا جائے ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ہمارے عیب تلاش کرتے وقت سخاوت اور عفو و در گذر کا مظاہرہ کریں اگر یہ سلوک ہم اپنے لئے مناسب سمجھتے ہیں تو پھر ہمیں خود بھی دوسروں کے لئے ایسے سلوک کا مظاہرہ کرنا چاہئے غیر ضروری تنقید اور عیب جوئی کے خلاف ہم یقینا ناراضگی کا اظہار کریں گے کتنی عجیب بات ہے کہ ہم اپنے عیبوں سے تو آگاہ نہیں ہوتے لیکن کس چابکدستی سے دوسروں کے عیوب واضح طور پر دیکھ لیتے ہیں دوسرے کی آنکھ میں تو ہم تنکا بھی دیکھ لیتے مگر ہمیں خود اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔دوسروں میں چھوٹی سے چھوٹی کمزوری بھی ہم غور سے تلاش کرتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ شاید اس سے بھی بڑی کمزوری ہم میں موجود ہو حقیقت تو یہ ہے کہ جو لوگ دوسروں میں عیوب تلاش کرتے ہیں در حقیقت خودان میں عیب اور کمزوریاں زیادہ پائی جاتی ہیں اس نکتہ اور دانا کی کی بات کو سمجھ لینے کے بعد ہمیں دوسروں کے عیبوں پر زبان درازی سے احتراز کرنا چاہئے مناسب تو یہ ہوگا کہ ہم ان کی اچھائیوں اور محاسن کا ذکر کریں اور کوئی عیب ہو تو در گزر کریں محبوب خدا سرور کائینات آنحضور ﷺ نے فرمایا ہے : کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے۔صحابہ نے جوابا عرض کیا اللہ اور اسکار سول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ حضور صلعم نے فرمایا۔تم اپنے بھائی کے متعلق اسکی غیر حاضری میں کوئی بات کہو جو اسے ناگوار گزرے۔کسی نے کہا اگر میرا بھائی واقعی دیسا ہو جیسا کہ میں نے بیان کیا۔اس پر آں حضور ﷺ نے فرمایا اگر وہ واقعی ویسا ہو جیسا کہ تم نے کہا تو تم نے نصیبت کی اور اگر وہ ویسا نہ ہو جیسا کہ تم نے بیان کیا تو تم تہمت اور بد گوئی کے سز اور ہو