گلدستہٴ خیال — Page 64
۶۴ تحسین پیش کیا شاید اس سے بہتر اظہار کوئی اور نہ کر سکے : میں انکے کریمانہ التفات اور مهمان نوازی کا دلی مشکور ہوں میں نے یہ دیکھا کہ انکا التفات کسی خاص طبقہ کیلئے مخصوص نہ تھا یہ التفات خاص و عام سب کیلئے تھا مرزا صاحب کی ذرہ نوازی کا اندازہ اس بات سے کریں کہ میرے قیام کے آخر پر جب میں نے رخصت کی اجازت طلب کی تو آپ نے اس شرط پر اجازت منظور فرمائی کہ جب میں دوبارہ آؤں تو کم از کم چند روز کیلئے قیام ضرور کروں میں جب اس ملاقات سے واپس لوٹا تو مجھ میں وہ احساس ابھی تک برقرار تھا جس احساس نے مجھے وہاں جانے پر مجبور کیا تھا مهمان نوازی کی بھی حدود ہیں جسکا مہمان کو احساس ہونا چاہئے مذہب اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ مہمان کھانے کے معقول وقفہ کے بعد چلا جائے ہاں اگر اس کے اور میزبان کے درمیان یہ بات طے ہو کہ اسنے زیادہ دیر ٹھہرنا ہے اسی طرح مہمان زیادہ دیر کیلئے آئے تو اسکا انتظام تین دن تک بطور مہمان کے تو مناسب ہے مگر اسکے بعد اسکو الوداع کہہ دینا چاہئے تا میزبان کو تکلیف نہ ہو ہاں اگر صاحب خانہ نے اسکا تین دن سے زیادہ ٹھہر نا قبول کیا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔