گلدستہٴ خیال — Page 63
۶۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کے مرکز قادیان میں ایک مہمان خانہ قائم فرمایا اور تاکید فرمائی کہ مہمانوں کی خاطر مدارت کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا جائے آپ نے اپنی زندگی میں اس مہمان خانہ کی بہ نفس نفیس نگرانی فرمائی اس کے بعد جماعت میں اس کا انتظام و انصرام علی پیمانہ پر کیا جاتا ہے جماعت احمدیہ کے دنیا کے مختلف ممالک میں مراکز کے قیام کے بعد کئی جگہہ ایسے مہمان خانے قائم کئے گئے ہیں جہاں اعلیٰ انتظام کی روایت کو ہر وقت بر قرار رکھا جاتا ہے۔بانی سلسلہ احمد یہ دوسروں کا بہت خیال رکھتے تھے اور تمام مہمانوں کی ضروریات پر پوری توجہ دیتے تھے ایک بار آپ کا ایک مر شد دور سے شرف ملاقات کے لئے آیا وہ شام کے وقت قادیان پہنچا اور جلد ہی محو خواب ہو گیا نصف شب کے وقت اس کے کمرہ پر دستک ہوئی۔دروازہ کھولنے پر اسکو علم ہوا کہ حضرت احمد علیہ السلام ہا تھ میں دودھ کا گلاس لئے کھڑے تھے وہ شخص وفور جذبات سے اشک بار ہو گیا کہ آپکو دوسروں کا کسقدر خیال تھا ایک اور موقعہ پر دو مسلمان بھارت کے کسی دور دراز علاقہ سے سفر کر کے حضرت احمد علیہ السلام سے ملاقات کیلئے آئے سفر میں انکو کئی روز گزر گئے جب وہ قادیان کے مہمان خانہ میں پہنچے تو وہاں موجود ایک شخص نے تانگہ سے سامان اتارنے میں مدد نہ کی وہ اس شخص کے رویہ سے خفا ہو کر واپس چلے گئے۔جب حضرت احمد کو اسکا علم ہوا تو آپ فوراً انکے تعاقب میں روانہ ہو گئے جب آپ نے ان دونوں حضرات کو پالیا تو آپ نے اس افسوس ناک واقعہ پر اظہار افسوس کیا اور قادیان واپس آنیکی درخواست کی جب وہ دونوں قادیان واپس آگئے تو آپ نے تانگہ سے خود سامان اتارا اور انکی تمام ضروریات کا انکے قیام کے دوران خیال رکھا جب وہ جانے لگے تو آپ دو میل پیدل ان کے ساتھ انکو الوداع کہنے گئے ایک بار سرکار کا ایک افسر قادیان آپ سے ملنے آیا اپنے آپکی مہمان نوازی کو جو خراج