گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 62 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 62

۶۲ مهمان نوازی که مہمان نوازی مذہب اسلام میں بنیادی حکم کا درجہ رکھتی ہے یہ ایک ایسی نیک صفت ہے جس کی تمام ادیان میں تعلیم دی گئی ہے اسلام میں بھی اس بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے : وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حَبِةٍ مِسْكِينَا وَيَتِيمَا وَ أَسِيرًا إِنَّمَا يُطْعِمَكُم لِوَجهِ الله لا نريد منكم جَزَاً ، وَلا شَكُورًا ( سورة ۷۶۱ آیت ۹ اور (۱۰) اور اس (خدا) کی محبت میں مسکین اور یتیم اور اسیر کو کھا نا کھلا تے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اے لوگو ہم تم کو صرف اللہ کی رضا کیلئے کھا نا کھلا تے ہیں نہ ہم تم سے کوئی جزا طلب کرتے ہیں نہ تہما را شکر چاہتے ہیں محبوب خدا نبی پاک اللہ سے زیادہ مہمان نواز انسان شاید دنیا میں گزرا ہو آپ جو چیز وصول کرتے اسکو دوسروں میں تقسیم کر دیتے تھے اگر کوئی شخص آپ سے درخواست کرتا تو آپ اسے قبول فرماتے اور غرباء سے تو آپ بہت ہی قریب تھے آپ کی مہمان نوازی کا دروازہ مسلمان اور غیر مسلمان دونوں کے لئے کھلا تھا ایک دفعہ عیسائیوں کا وفد مدینہ آیا تو آپ حضور نے انکو مسجد میں عبادت کی اجازت مرحمت فرمائی ایک اور موقعہ پر ایک غیر مسلم کو دودھ کی ضرورت تھی تو آپ نے اسے دودھ پیش کیا یہ شخص صرف ایک بحری کے دودھ پر راضی نہ ہوا تو دوسری بحری کا دودھ پیش کیا گیا اسپر بھی وہ مطمئن نہ ہوا تو وہاں موجود سات کی سات بحریوں کا تمام دودھ اسے دے دیا گیا محبوب خدا سرور کائینات ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر تم اپنے بھائی سے مہمان نوازی کا سلوک نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے چہرہ پر مسکراہٹ زیب کر کے تو اس سے ملاقات کر سکتے ہو جب تم گوشت خرید و اور اسے پکانے لگو تو بر تن میں تھوڑا پانی زیادہ ڈال لو تا اس سے شوربے کا کچھ حصہ اپنے ہمسایہ کو بھی دے دو