گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 41 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 41

۴۱ 3 مذکورہ آخری آیت کی تغییر یوں فرمائی ہے کہ جنت دو قسم کی ہیں ایک اس دنیا میں اور دوسری آنے والی دنیا میں۔کچی بات تو یہ ہے کہ ہم کبھی مرتے نہیں بلکہ پیدائش کے بعد فنا ہو نے والی زندگی میں رہ کر نہ فنا ہونے والی زندگی میں چلے جاتے ہیں۔ہمارا اصل نفس تو ہماری روح ہے نه که همارا طبیعی جسم جس میں یہ کچھ عرصہ کے لئے قائم رہتی ہے ہماری ہستی کی اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم روح ہیں جو جسم میں مقیم ہے نہ کہ جسم جس میں روح ہے تمام ادیان اپنی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان اپنی نمود و افزائش خدا سے محبت۔دعا دوسروں کی خدمت اور نفسانی تزکیہ سے کرتا رہے اس بیان کردہ عمل کا نچوڑ ہی دراصل Elixir of Life ہے جس کے ذریعہ ھم جنت کی نعماء کا مزہ اس دنیا میں ہی چکھ سکتے ہیں اس مقصد کیلئے مندرجہ ذیل قرآنی حکم کو اپنے مد نظر رکھیں فا استبقو الخيرات ( سورۃ ۲۔آیت نمبر ۱۴۹) قد أَفْلَحَ مَن تزكى ( سورة ۸۷ - آیت (۱۵) یہ دنیا ہمیں نیکی اور بدی اور خدا کی رضا حاصل کرنیکا موقعہ فراہم کرتی ہے کیونکہ آنے والی زندگی میں نیکی اور بدی کر نیکی قوت ھم سے جاتی رہیگی روحانی ترقی کا انحصار اخروی زندگی میں صرف اور صرف خدا کی خوشنودی پر منحصر ہو گا یہ ھمارے کسی عمل یا کوشش سے ممکن نہ ہو گا ہاں دعا کے ذریعہ ہم ہدایت کا نور تلاش کر سکیں گے اس ورلی زندگی میں مومن کے لبوں پر یہ دعا ہو گی رَبَّنَا آتِهِم لَنَا نُورَنَا۔اے آپ حیك ہمارے رب اس نور کو اخیر تک ہمارے ساتھ رکھیئے (یعنی راستہ میں گل نہ ہو جائے ) سورۃ ۶۶ آیت ۶ زندگی میں اس سے زیادہ بڑا اور معنی خیز مقصد نہیں ہو سکتا ماسوا اس کے کہ انسان اپنی روحانی زندگی کو بہتر ہے بہتر بنائے اور خدا سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائے قرآن مجید کی درج ذیل نصیحت کتنی سبق آموز ہے وَ جَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُم وَأَنفُسِكُم فِي سَبِيلِ الله (سورة الحمد ۹ آیت نمبر (۲) اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔والی زندگی میں ھم