گلدستہٴ خیال — Page 40
ودائی زندگی کے قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے۔انَمَا ہٰذِهِ الحَيوةُ الدُّنْيَا مَتَاعُ وَإِنَّ الْأَخِرَةَ هِيَ دار لقرار (سورة ۴۰ آیت (۴۰) ترجمہ : یہ دنیوی زندگی تو محض چند روزہ ہے اور اصل مستقل مقام تو آخرت ہے انسان اور دوسری اشیاء میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ انسان میں یہ استعداد ودیعت کی گئی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے اور اپنے دوست احباب سے اپنے تعلق کو بہتر سے بہتر بنا سکتا ہے یہی اس عالم میں ہمارے رہنے کا مقصد ہے۔جس کیلئے خداوند کریم نے وقتاً فوقتاً مختلف ادوار میں انسانوں کی رشد و ہدایت کیلئے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سیدھا راستہ دکھلایا اور تمام نوع انسانی کے لئے سب سے آخری اور ہر رنگ میں مکمل ہدایت نامہ ہمارے محبوب پیغمبر آنحضرت علی لیکر مبعوث ہوئے مذہب اسلام میں آخرت کی زندگی پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔جو کہ فی الحقیقت اس زندگی کا ہی ایک حصہ ہے آخرت کی کائینات ایسی فری کوئین سیز پر ارتعاش کرتی ہے کہ انسان کے حواس اس کا اندازہ کرنے سے قاصر ہیں۔جنت الفردوس کی نعماء اس نوعیت کی ہیں کہ جن کو نہ آنکھ نے دیکھا نہ ہی انسانی کانوں نے سنا اور نہ ہی انسانی دماغ ان کو تصور میں لا سکتا ہے تا ہم جنت کی نعماء کا تجربہ اور انکا لطف قبر میں جانے سے پہلے اس زندگی میں کیا جا سکتا ہے اس تجربہ کو جنت ارضی کہا جاسکتا ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی پیاری کتاب میں فرماتے ہیں نحن أولياء كُم فِى الحيوةِ الدُّنيَا وَفِي الآخِرَةِ ( حم السجدة سورة ۲۱ آیت ۳۲) ہم تمہارے رفیق دنیوی زندگی میں تھے اور آخرت میں بھی ہوں گے لَهُم البشري في الحيوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ ( یونس سورۃ نمبر ۱۰ آیت (۶۵) ان کے لئے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوش خبری ہے حضرت میرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود و مهدی موعود۔بانی جماعت احمدیہ نے