گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 28 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 28

۲۸ اخلاقی خوبیوں کی ملکہ کے مذہب اپنے پیرو کاروں سے عقائد اور اصولوں کے قبول کرنے کے علاوہ کچھ اور باتوں کا بھی مقتضی ہوتا ہے جس سے مراد زندگی کا وہ عملی پہلو ہے جو ہر قسم کے کردار اور چال و چلن پر محیط ہوتا ہے گویا دوسرے لفظوں میں مذہب اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ انسان اس بات کی کوشش کرے کہ وہ اپنی سوچ اپنے عمل اور اپنے قول میں نیکی کا پیکر بن جائے اور یہ مطمح نظر صبر اور مستقل مزاجی کے علاوہ حاصل نہیں ہو سکتا ہے صبر در حقیقت تمام اخلاقی خوبیوں کی ملکہ ہے یہ تنک مزاج طبیعت اور بد اخلاق رویہ کے لئے تریاق کا اثر رکھتا ہے۔بلا شبہ اس نیکی کو ہر وقت مد نظر رکھنا اور اس پر عمل کرنا آسان کام نہیں ہے لیکن جتنا انسان اس کو اپنے نفس کے اندر پیدا کرتا ہے اتنا ہی زیادہ انسان روحانی دنیا میں ترقی کرتا ہے اور ہر روحانی مسافر کا یقینا یہی مطمح نظر ہو نا چاہئے مبر ایک اکتسابی استعداد ہے جو انسان کو ہر قسم کی آفت اور مصیبت میں عقل مندی۔صبر اور تحمل سے جھیلنے کی قوت عطا کرتی ہے یہ استعداد ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہم ہر دم چوکس رہیں یہ ایک ایسی استعداد ہے جو زندگی میں ہر روز پڑھائی جاسکتی ہے یا یوں کہ یہ ایک ایسی رحمت ہے جو انسان کو پریشان ہونے سے نجات دیتی ہے۔یہ ہر قسم کے پریشان کن حالات میں خود کو قابو میں رکھنے کی استعداد عطا کرتی ہے اس رحمت کے نتیجہ میں انسان مصائب اور تکالیف کا صبر اور تحمل سے مقابلہ کرتا ہے نیک فطرت انسان کے لئے گویا یہ چیز خدا کی منشاء اور اس کی رضا کے آگے سر تسلیم خم کرتا ہے۔کامیاب زندگی گزارنے کے لئے یہ ایک نہایت بنیادی اور اہم جزو ہے خاص طور پر