گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 29 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 29

۲۹ روحانی زندگی کی نشوو نما میں تو صبر جزولانیفک کی حیثیت رکھتا ہے۔صبر انسان کے کردار کو سنورا تا اسے نکھارتا اسے خوب صورت بناتا ہے اور روحانی نشو و نما کو منور کرتا ہے یہ روح کو چمکدار بناتا ہے انسان کا کردار اس سے دلکش بن جاتا ہے یہ ایک ایسا جادو منتر (چارم) ہے جس کی تعریف ہر کس و ناکس کرتا ہے بے صبری اس کے بر عکس دماغ میں آگ لگاتی ہے جبکہ صبر اپنے خوشکن جھونکے سے ہمارے ذہن کو سکون مہیا کرتا ہے بائیبل میں مذکور ہے۔بھائیو تمام مخلوق کے ساتھ صبر کے ساتھ پیش آؤ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے اِستَعِينُوا بِالصبر و الصلوة (سپارہ ۲۔آیت ۱۵۳) یعنی صبر اور نماز کے ساتھ سہارا حاصل کرو بلا شبہ اللہ کریم صبر کرنے والوں کیسا تھ ہے۔ایک اور جگہہ ارشاد ہوتا ہے و بشر الصابرین ( سپارہ ۲ آیت نمبر (١٥٦) اے نبی کریم صبر کرنے والوں کو بشارت سنائیے پھر ارشاد ہوتا ہے یا نهَا لَذينَ آمَنُوا صِبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا (سپارہ تین آیت ۲۰۰) اے ایمان والو صبر کرو اور مقابلہ میں بھی صبر کرو اور مقابلہ کے لئے مستعد رہو ایک مغربی مصنف سموئیل سمائیل Samuel Smile نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔۔ین It is by patience and self control that the truly heroic character is perfected۔جماعت احمدیہ کے تیسرے خلیفہ حضرت میرزا ناصر احمد صاحب کا بھی یہی مائو تھا و محبت سب کے لئے اور نفرت کسی سے نہیں۔مصائب کو اگر انسان کو شش کرے تو خیر برکت کا موجب بنا سکتا ہے مصائب میں فوائد کے بیچ پنہاں ہوتے ہیں جن کو اگر مناسب غذا دی جائے تو وہ فوائد کے پھول بن کر ہماری جھولی میں گر سکتے ہیں مصائب سے انسان کے کردار کا امتحان ہوتا ہے کیونکہ زندگی پھولوں کی سیج ہر گز نہیں ہے اللہ کریم اپنی پیاری کتاب قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں۔ووَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْ مِنَ الخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ والقمرات ، و بَشر الصابرین سپاره تبر ۲ آیت (۱۵۶) اور ہم تمہیں کسی قدر خوف اور بھوک (سے) اور