گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 151 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 151

۱۵۲ پر پیش کیا تھا جیسا کہ ہم قرآن مجید میں پڑہتے ہیں کہ وہ حواری جو مادی طور پر دنیوی خواہشات کے غلام تھے وہ روحانی دنیا میں صداقت قبول کر کے پرندوں کی طرح اونچی پرواز کرنے لگے انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں اور حضرت عیسی نے جو کچھ انکو کہا انہوں نے پرندوں کی طرح اسکے احکام کی تعمیل کی حضرت عیسی نے اپنے حواریوں سے کہا کہ وہ اپنی زندگی کاذرہ بھر بھی نہ سوچیں نہ یہ کہ وہ کیا کھا ئیں گے کیا بھی گے۔نہ اپنے جسم کا فکر کریں نہ یہ کہ وہ کیا زیب تن کر یں گے ہوا کے پرندوں کو ذرادیکھو جو نہ لگاتے ہیں نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی کھلیان جمع کرتے ہیں اسکے باوجود کائنات کا پالنے والا انکو رزق مہیا کرتا ہے کیا تم انسان ان پرندوں سے افضل نہیں ؟ بعنیہ خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نیک انگریزوں کو اپنے پیرو کاروں کی صورت میں دکھلایا جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ انگریز بھی اپنی زندگیاں وقف کر کے اسلام کے مبلغ بن جائیں گے تا یہ اسلام کا ازلی پیغام دوسری قوموں تک پہنچا سکیں۔مسٹر آرچرڈ جنہوں نے اپنی زندگی اسلام کی خدمت کیلئے وقف کر دی ہے یقینا ان خوش نصیب پرندوں میں سے ہیں جعو خوش ہونا چاہئے اور ہم انکو انکے اس مرتبہ پر مبار کہار دیتے ہیں اور خلوص دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔آخر پر میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ سے درخواست کرونگا کہ وہ مسٹر آرچرڈ کے صبر استقلال اور جس نصب العین کیلئے وہ یہاں آئے ہیں اسمیں کامیابی کیلئے دعا فرمائیں آرچرڈ صاحب کا جواب کے میں اپنی تقریر کا آغاز خدواند کریم کے شکر سے کرتا ہوں جس نے مجھے احمد بیت کا سچار استہ دکھلایا اور جس نے مجھے اسلام کی خدمت کی توفیق دی میں تحریک جدید کے ممبران کا شکریہ اد کرتا ہوں جنہوں نے میرے لئے اس دعوت کا اہتمام کیا نیز میں حضرت امیر المؤمنین کا مشکور ہوں جنہوں نے اس دعوت میں منفس نفیس تشریف لا کر ہماری عزت افزائی کی ہے جب میں پہلی بار قادیان آیا تو میں نے صرف دو روز قیام کیا تھا اور اس مختصر عرصہ میں میں نے بہت سے دوستوں سے گفتگو کی تھی جنکے مانوس چہرے آج شام اس دعوت میں میرے ارد گرد مجھے بیٹھے نظر آرہے ہیں جب میں یہاں سے الوداع ہوا تو رخصت ہونے سے قبل میں نے کہا تھا کہ میرے نظریات ابھی بھی وہی ہیں جو یہاں آنے سے قبل تھے جب ٹرین قادیان سے چند میل دور جا چکی تو میں نے جو کچھ دیکھا اور سنا تھا اس بارہ میں بے اختیار سوچنا شروع کیا اور میں نے آپکی ہو ردی- صبر - التفات اور مہربانی کو دل کی گہرائیوں سے سراہنا شروع کیا جب گاڑی امر تسر پہنچی تو میں ابھی تک قادیان میں پیش آنیوالے تجربہ کے خیالات میں ڈوبا ہوا تھا