گلدستہٴ خیال — Page 149
۱۵۰ آرچرڈ صاحب کی قادیان میں آمد ہے تحریک جدید قادیان کی طرف سے مولینا جلاالدین شمس صاحب نے مسٹر بشیر احمد آرچرڈ کی قادیان میں آمد پر جو استقبا ليه خطاب پیش کیا اور جو ریویو آف ريليجنز جون ۱۹۴۷ میں شائع ہوا وہ یہ ہے : تحریک جدید قادیان کی طرف سے آج شام ہمارے نہایت قابل احترام بھائی مسٹر آرچرڈ کو خوش آمدید کہتے ہوئے مجھے بے پناہ مسرت محسوس ہوتی ہے عربی زبان میں کہی بات دو بھائیوں کے درمیان اهلا و سهلا و مرحبا که کر ادا کی جاتی ہے عرفی کے ان تین الفاظ کے ایک معنی یہ ہیں کہ آپ اپنے گھر ہی تشریف لے آئے ہیں ہمیں امید ہے کہ آپکو یہاں آنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی ہو گی ہم آپکا پر جوش استقبال کرتے ہیں اور آپکو یقین دلاتے ہیں کہ آپکو یہاں ہر چیز وافر میسر ہو گی مسٹر آرچرڈ مزید تعارف کے محتاج نہیں کیونکہ اس سے پہلے وہ یہاں دو مرتبہ آچکے ہیں اس مقدس شہر میں انکے بہت سارے دوست ہیں مسٹر آرچرڈ کا احمدیت کے بارہ میں تعارف ہندوستان میں انکے قیام کے دور ان ہوا جب وہ یہاں ملٹری میں اپنی ڈیوٹی پر متعین تھے اور دو سال قبل وہ قادیان میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے وہ احباب جو مسٹر آرچرڈ سے تعارف رکھتے ہیں خوبی جانتے ہیں کہ آپ تبلیغ کے معاملہ میں بہت سرگرم ہیں اور لوگوں تک احمدیت کا پیغام پہنچانے میں ہر حیلہ کام میں لاتے ہیں آرمی سے فراغت حاصل کرنے کے بعد آپنے دو روز تک برسٹل میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ قیام کیا اور تیسرے روز مسجد فضل لندن تشریف لے آئے مسجد میں قیام کے دوران آپنے مجھ سے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ مبلغ اسلام بنا چاہتے ہیں نیز مسجد میں قیام کرنا چاہتے ہیں چنانچہ میں نے انکو ایک مبلغ اسلام کی ذمہ داریوں اور تبلیغ اسلام کیلئے ضروری تعلیم و کوائف سے آگاہ کیا۔بلآخر میں نے انکو اس بات کا یقین دلایا کہ میں انکی درخواست پر پوری ہمدردی سے غور کرونگا اور اسکا جواب تحریر میں دوں گا جب انہوں نے اپنی پیشکش پر مجھے تذبذب میں مبتلا دیکھا تو وہ ذرا ناراض ہو گئے۔چند روز کے بعد تاہم انہوں نے اپنی زندگی اسلام کی خدمت میں دوسرے واقعین کی طرح بلا شرط وقف کر دی انکی وقف کی درخواست میں نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی خدمت میں اس رائے کیسا تھ جھوادی کہ وہ یقیناً ایک سود مند مبلغ ثابت ہو نگے میں نے مسٹر آرچرڈ سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ اب قیام کریں اور اسلام کا مطالعہ شروع کر دیں دریں اثناء حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ نے آپ کا وقف منظور فرمالیا اور مسٹر آرچرڈ نے دوسرے مبلغین کے ساتھ ملکر اسلامی تبلیغ وخدمت کا کام شروع کر دیا آپنے اپنی ساری خدمات خلوص دل سے پیش کیں اور یقیناً