گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 144 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 144

۱۴۵ کا خط ملا جسمیں انہوں نے لکھا تھا میں ۲۸ دن کی چھٹی پر قادیان گیا تھا اب واپس واہ کیمپ میں اپنی پرانی کمپنی یعنی ڈوگرہ رجمنٹ میں آگیا ہوں راولپنڈی کی جماعت میں اکثر جاتا رہتا ہوں میں نے انکو جواب میں لکھا کی عنقریب ہی میں چھٹی آنیوالا ہوں اور آپ سے ملاقات کروں گا کیونکہ اس دفعہ میر المرادہ سری نگر جا کر قبر مسیح دیکھنے کا ہے احمد نگر سے میں چھٹی پر قادیان گیا اور وہاں سے واہ کیمپ کیلئے روانہ ہو گیا راولپنڈی کے اسٹیشن پر ڈوگرہ رجمنٹ کا یک سپاہی رحمیٹل پولیس کی ڈیوٹی دے رہا تھا میں نے اس سے دریافت کیا کہ واہ میں تمہاری کمپنی کسی جگہ مقیم ہے اپنے دریافت کیا کہ تم ڈوگرہ رجمنٹ میں کس سے ملو گے ؟ میں نے بتایا کہ لیفٹیننٹ آرچرڈ سے ملنا چاہتا ہوں اس نے کہا کہ وہ تو تمہارا بھائی بند ہے (کیونکہ رجمنٹ میں ہر ایک کو معلوم تھا کہ یہ ایک انگریز مسلمان ہے تو میری داڑھی دیکھ کر اس شخص نے یہ اندازہ لگایا کہ یہ بھی مسلمان اور وہ بھی مسلمان اس وجہ سے یہ ایک دوسرے کے بھائی بند ہیں) میں واہ اسٹیشن پر اتر کر کیمپ گیا اور چونکہ وہاں ڈوگرہ رجمنٹ کی کئی کمپنیاں پڑی تھیں میں نے ایک حوالدار سے دریافت کیا کہ مجھے فلاں آفیسر سے ملنا ہے تو پہلی بات جو اسنے کی وہ یہ تھی وہ تو مسلمان ہو گیا ہے میں نے کہا الحمد للہ اتفاق سے لیفٹینٹ صاحب کا اردلی سامنے جاتا دکھائی دیا حوالدار صاحب نے اسے آواز دی کہ یہ تمہارے صاحب سے ملنے آئے ہیں انہیں لے جاؤا نکے اردلی نے بھی آرچرڈ صاحب کے مسلمان ہو نیکی باتیں شروع کر دیں میں اسکی باتیں سن رہا تھا اور میر ادل خوشی سے باغ باغ ہو رہا تھا کہ خداوند تعالیٰ نے اپنے رحم و کرم سے اس روح کو جہنم سے چھالیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل اسے شرک سے نجات دی اور وحدانیت کا عاشق بنا دیا میں لیفٹینینٹ صاحب کے کوارٹر پر پہنچا وہ سورہے تھے ایک دم جاگ اٹھے اور کہا السلام علیکم میں نے بڑھ کر