گلدستہٴ خیال — Page 130
احمدی خدا کا فوجدار سپاہی ہے جو اسلام کے جھنڈے کی حفاظت کیلئے وقف ہو چکا ہے پر امن ذرائع سے اسلام کے دفاع اور تبلیغ کیلئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔جب اسے اپنے فرض کی طرف بلایا جاتا ہے تو ایک سپاہی کی حیثیت سے وہ گھر میں بیٹھا مسلمان نہیں بلکہ روحانی تلوار ہاتھ میں لئے وہ ہر طرف جاتا ہے وہ سخت گرمی۔برفباری۔اور یخ بستہ ہو اؤں سے گھبراتا نہیں ہے اس کے پختہ ایمان اور عقیدہ کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اسلام کی محبت میں سر شار ہر قسم کی صعوبتیں سہنے کے لئے تیار رہتا ہے ایک احمدی دنیا کے بڑے بڑے مشاہرین کی زندگیوں سے سبق سیکھتا ہے انکی خوبیوں کو اپنانے کیلئے وہ ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے تاوہ اسلام کی خاطر بہتر طریق سے جہاد کر سکے اسلام کا سفیر ایک احمدی پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود و مهدی موعود کا نمائندہ ہے۔جنگی آخری زمانہ میں بعثت کی پیش گوئی سید المرسلین آنحضور ﷺ فرما چکے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے پیرو کاروں کو سخت تاکید فرمائی کہ وہ ہر پہلو سے عملی مسلمان بن کر دکھا ئیں۔ایک احمدی کو اسلام کا معزیز سفیر بن کر پورے جوش و جذبہ سے اسکی تمام تعلیمات پر عمل پیرا ہو نا چاہئے یہ بات صحیح ہے کہ وہ مذہب جو کرامات نہیں دکھلاتا ہے مردہ مذہب ہے۔یہ جانتے ہوئے کہ ایک احمدی پر دنیا کی نظر میں جمی ہوئی ہیں کہ وہ احمدیت کی تعلیمات پر پورے خلوص سے عمل کرتا ہے یا نہیں وہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی تعلیمات پر محتاط طریق سے عمل پیرا ہوتا ہے لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ خدا کی نظر میں اس پر لگی ہوئی ہیں