گلدستہٴ خیال — Page 118
IIA اور بھائی چارہ کی کا إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِحْوَةً فَا صَلِحُوا بَينَ أَخَوَيْكُم وَاتَّقُو الله لعلكم ترحمون ( سورۃ ۴۹۔آیت (۱۱) مومنوں کا رشتہ آپ میں بھائی بھائی کا ہے پس تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان جو آہ میں لڑتے ہوں صلح کرادیا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے مذہب اسلام نے اخوت و بھائی چارہ پر بہت زور دیا ہے جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ انسان دوسروں کی طرف مثبت رجحان رکھے انسانی بھائی چارہ اور تعلق کی گہرائی یقینا بدلتی رہتی ہے یہ انسانی فطرت ہے بعض دفعہ انسان کا تعلق اور انس بعض لوگوں کے ساتھ زیادہ اور بعض کے ساتھ کم ہوتا ہے اخوت سے مراد عزت کا ایک خاص معیار اور دوسروں کیلئے بھلائی ہے حضرت میرزا ناصر احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی زندگی میں اس نعرہ کو بہت فروغ دیا کہ ہر احمدی کی محبت سب کے لئے ہے اور نفرت کسی کے لئے نہیں فرقان مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں : Love for all, hatred for none يَا أَيْهَا النَّاسُ إِن خَلَقْتُكُم مِن ذكر وأنثى وَجَعَلنَكُم شَعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنْ اكرمَكُمْ عِنْدَ الله انقلم - إن الله عَلِيمٌ خَبِيره ( سورة ۴۹ آیت (۱۴) اے لوگو ہم نے تم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو کئی گروہوں اور قبائل میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پچانو اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے یقینا اللہ بہت علم اور بہت خبر رکھنے والا ہے مذکورہ آیت مبارکہ سے انسانیت کی اخوت اور مساوات کی دلیل ملتی ہے چونکہ ہم سب کا منبع اور ماخذ ایک ہے لہذا ہم سب انسانیت کے ایک وسیع خاندان میں موتیوں کی مالا کی طرح پروئے ہوئے ہیں محبت اور عزت سے سب خاندان آپس میں متحد رہتے ہیں۔امن اور