گلدستہٴ خیال — Page 85
۸۵ کیلئے تضرع سے دعا گو ہوں یادر ہے کہ دعا اور کوشش دونوں درکار ہیں۔دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ دعا پر زیادہ زور دیتے اور کوشش کم کرتے اور پھر سوچتے ہیں ہماری دعا کو شرف قبو لیت کیوں حاصل نہیں ہوتا ؟ ہمارا انتہائے مقصود یہ ہونا چاہئے کہ ہم تقویٰ میں ہر روز گا ہے لگا ہے ترقی کریں اس سفر میں کوئی آخری منزل نہیں جہاں سفر ختم ہو جاتا ہو۔اپنی روحانی حالت سے مطمئن ہو جانے میں کوئی نیکی نہیں ہے کیونکہ اگر اپنی حالت سے مطمئن ہو گئے تو گویا ہم نے الٹا سفر شروع کر دیا ثابت قدمی ترقی کی پوشیدہ کنجی ہے جب ہم اس دنیا سے کوچ کریں گے تو لوگ کہیں کہ وہ ترقی کے راستہ پر گامزن رہ کر موت کی آغوش میں چلا گیا اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں والله مع الصابرین ٥ سورۃ ۲۔آیت ۲۵۰۔اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے تقویٰ اور نیکی مستقل کوشش اور توجہ کے بغیر انسان میں پنپ نہیں سکتے ہیں اپنا تجزیہ خود کرنا اپنے آپ کو ڈسپلن کرنا۔سلیف کنٹرول۔چوکس رہنا۔شدت سے چاہنا نیز دعا کرنا بہت لازمی امور ہیں ہم انسان ہیں کوئی فرشتے تو نہیں کہ ھم میں غلطیاں یا نقص موجود نہ ہوں شاید اس نیکی کے کٹھن راستہ پر ہم گھٹنوں کے بل گر پڑیں شاید ہمیں بہت سی شیطانی خواہشات اور ذھنی رجحانات کے خلاف جنگ کرنی پڑے لیکن اگر ہمارا نفس مضبوط ہے تو پھر مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں ہے ہماری ہر کوشش ترقی کی جانب ہمیں لیجاتے ہوئے بلآخر جنت کی طرف لے جائیگی اگر ہم اپنے صفحے نظر کو حاصل نہ کر سکیں تو بھی ہم تقویٰ کے نیک راستہ پر لمبا سفر کر چکے ہوں گے اگر بالفرض محال ہم پھسل جائیں تو بھی ہمیں دل نہیں ہارنا چاہئے اللہ کریم فرماتے ہیں فل يُعِبَادِيَ الذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِم لَا تَقْنَطُوا مِن رَحْمَةِ الله إن الله يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الغَفُورُ الرَّحِيم ٥ ) سورۃ ۳۹ آیت نمبر ۵۴) تو انکو ہماری طرف سے کہہ دے اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جان پر (گناہ کر کے ظلم کیا مطر